Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6126

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهٗ إِلَّالِسَعْدٍ قَالَ لَهٗ يَوْمَ أُحُدٍ: «ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» وَقَالَ لَهٗ: "اِرْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن علي قال: ما جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم أباه وأمه إلالسعد قال له يوم أحد: «ارم فداك أبي وأمي» وقال له: "ارم أيها الغلام الحزور". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے سعد کے سواءکسی کے لیے اپنے باپ و ماں جمع نہیں فرمائے ۱∞؎کہ ان سے احد کے دن فرمایا تیر چلاؤ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۲؎اور ان سے فرمایا اے بہادر لڑکے تیر چلا ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی احد کے دن کسی کے لیے ماں باپ جمع نہ کیے یا حضرت علی کو دوسرا واقعہ علم میں نہ ہوا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور نے جناب طلحہ سے یہ ہی فرمایا تھافداك ابی و امی۔
۲
؎اس کا مطلب کچھ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس قسم کے فرمان انتہائی عزت افزائی کے لیے ہوتے ہیں تم پر میں فدا تم پر میرے ماں باپ فدا۔
۳
؎حزوربمعنی جوان بہادر تجربہ کار،آپ جب مسلمان ہوئے تو سترہ سال کے تھے غزوہ احد کے وقت آپ جوان تھے جوان آدمی کو بزرگ بیٹا یا بچہ کہہ دیتے ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ ایک مشرک نے بہت مسلمانوں کو زخمی یا شہید کیا تھا،میں نے اسے تاک کر تیر مارا جو اس کی پیشانی پر لگا جس سے وہ گر گیا اور اس کا تہبند اٹھ گیا وہ ننگا رہ گیا حضور انور ہنس پڑے اور مجھے دعائیں دیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6126