Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6131

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ: «إِنَّ الَّذِي يَحْثُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي هُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ اللّٰهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن أم سلمة قالت:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لأزواجه: «إن الذي يحثو عليكن بعدي هو الصادق البار اللهم اسق عبد الرحمن بن عوف من سلسبيل الجنة» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو اپنی بیویوں سے فرماتے سنا کہ جو شخص تم سب پر میرے بعد تم پر نچھاور کرے وہ سچا اور نیک ہوگا ۱∞؎الٰہی عبدالرحمن ابن عوف کو جنت کے سلسبیل سے پلا ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یحثوبنا ہےحثوسے بمعنی لپ بھر بھر کر کسی پر بکھیرنا یعنی نثارکرنا نچھاور کرنا یعنی جو میرے بعد تم پر دل کھول کر خرچ کرے وہ بہت ہی نیک و صالح ہوگا۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا ہے کہ تاقیامت جو مسلمان تمہارے نام پر خیرات کرے،تمہاری طرف سے حج بدل کرے،تمہارے نام پر مسجدیں یا خانقاہیں بنائے وہ بہت ہی نیک صالح ہے،اس فرمان عالی میں تاقیامت مسلمانوں کو لے لیا گیا ہے۔
۲
؎سلسبیل جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے جس کاذکر قرآن مجید میں ہے"عَیۡنًا فِیۡھَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیۡلًا"۔اہل عرب کہتے ہیں ماء سلسل،سلاسل،سلسبیلا یعنی بہت کثرت سے بہنے والا پانی۔یہ دعا یا تو حضرت ام سلمہ کی ہے یا خود حضور صلی الله علیہ و سلم کی کہ چونکہ عبدالرحمان ابن عوف نے میری ازواج پاک سے یہ سلوک کیا یا کرنے والے ہیں، خدایا تو انہیں جنت کا چشمہ سلسبیل عطا فرما۔معلوم ہوا کہ حضور کی دعا لینے کا ذریعہ ازواج مطہرات کی خدمت کرنا ہے۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم جناب عائشہ صدیقہ کے گھر رہتے ہیں جو بھی ثواب ختم وغیرہ کا ہدیہ حضورصلی الله علیہ و سلم کو کرنا ہو اس میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کا نام شریف ضرور لیا جائے،ان کے توسط سے بارگاہ رسالت میں پیش کیا جائے تب حضور کے ہاں قبول ہوتا ہے۔فقیر حقیر احمد یار کی نیت پختہ ہے کہ اگر اب کی بار رب نے حج نصیب کیا توان شاءاللهجناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کی طرف سے حج بدل کروں گا اور عمرہ جناب ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی طرف سے،اس گنہگار پر ان دونوں سرکاروں کے بڑے احسانات ہیں مجھے انہوں نے ہی اپنے قدموں سے لگا کر باریاب کیا ہے رضی الله عنہما، الله ان کا بھلا کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6131