Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6114

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدِمَهُ المَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِي إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ فَقَالَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: أَنَا سَعْدٌ قَالَ: مَا جَآءَ بِكَ؟ قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهٗ فَدَعَا لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: سهر رسول الله صلى الله عليه وسلم مقدمه المدينة ليلة فقال: ليت رجلا صالحا يحرسني إذ سمعنا صوت سلاح فقال: من هذا ؟ قال: أنا سعد قال: ما جاء بك؟ قال: وقع في نفسي خوف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فجئت أحرسه فدعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نام. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ آتے وقت ایک رات بے خواب رہے ۱∞؎پھر فرمایا کاش کوئی نیک شخص ہماری حفاظت کرتا ۲؎اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے عرض کیا میں سعد ہوں فرمایا کیا چیز تم کو یہاں لائی عرض کیا میرے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر خطرہ گزرا تو میں ان کی حفاظت کرنے آیا۳؎ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی پھر سوگئے ۴؎(بخاری،مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ کسی غزوہ سے واپسی کے وقت ہوا کہ تمام رات حضور سفر کرتے رہے آخر رات میں آرام فرمانے کے لیے اترے۔
۲
؎چونکہ اس زمانہ میں بغیر حفاظت سونا خطرناک تھا اس لیے یہ دعا کی۔حضور نے یہاں دو دعائیں کیں: ایک یہ کہ میری حفاظت کے لیے کسی کو بھیج دے،دوسرے یہ کہ وہ محافظ بندہ صالح ہو حالانکہ رب وعدہ فرماچکا تھا کہ"وَاللهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ"تاکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہوجاوے۔اس سے معلوم ہوا کہ صالحین کی حفاظت غیر صالحین کی حفاظت سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ صالحین کی حفاظت میں ہم سب کو رکھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر خدا کی مدد لینا نہ خلاف توحید ہے نہ خلاف توکل۔
۳
؎سبحان الله!یہ ہے حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی دعا کا اثر ادھر دعا فرمائی ادھر حضرت سعد کے دل میں یہ خیال آیا۔معلوم ہوا کہ حضرت سعد کا ایمان آپ کا تقویٰ وغیرہ رجسٹری شدہ ہے۔
۴
؎ایسی دعا تیر بہدف ہوتی ہے،حضور انور نے بہت خوش ہوکر یہ دعا دی،حضرت کا بیڑا تر گیا دعا کرانا اور دعا لینا اس میں بہت فرق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6114