- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6134
باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6134
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللّٰهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهٗ وَحَمَلَنِي إِلٰى دَارِ الْهِجْرَةِ وَصَحِبَنِي فِي الْغَارِ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ. رَحِمَ اللّٰهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الحَقُّ وَمَا لَهٗ مِنْ صَدِيقٍ. رَحِمَ اللّٰهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ رَحِمَ اللّٰهُ عَلِيًّا اللّٰهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهٗ حَيْثُ دَارَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رحم الله أبا بكر زوجني ابنته وحملني إلى دار الهجرة وصحبني في الغار وأعتق بلالا من ماله. رحم الله عمر يقول الحق وإن كان مرا تركه الحق وما له من صديق. رحم الله عثمان تستحييه الملائكة رحم الله عليا اللهم أدر الحق معه حيث دار رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے الله ابوبکر پر رحمت کرے انہوں نے اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کردیا ۱∞؎اور مجھے ہجرت گاہ تک پہنچایا ۲؎اور غار میں میرے ساتھ رہے۳؎اور بلال کو اپنے مال سے آزاد کیا ۴؎الله عمر پر رحمت کرے کہ وہ حق بات کہتے ہیں اگرچہ کڑوی ہو انہیں حق نے ایسا کردیا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ۵؎الله عثمان پر رحمت کرے کہ ان سے فرشتے غیرت کرتے ہیں، الله علی پر رحمت کرے،الٰہی علی کے ساتھ حق کو گردش دے جدھر وہ گردش کریں ۶؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زندہ کو رحمۃ الله علیہ کہہ سکتے ہیں۔(مرقات)خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی دختر نیک اخترام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح حضور انور صلی الله علیہ و سلم سے کیا،اس میں اپنی بیٹی کی قربانی ہے جس کی وجوہ ابھی ہم کچھ پہلے عرض کرچکے ہیں اس لیے حضور انورصلی الله علیہ و سلم نے اسے صدیق اکبر کی قربانیوں کے سلسلے میں ذکر فرمایا۔
۲؎اس طرح کہ غار ثور تک حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو اپنے کندھے پر لے گئے اور اس سے آگے حضور صلی الله علیہ و سلم کے مصاحب رفیق سفر رہے مدینہ منورہ تک۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے دو اونٹ پالے تھے ہجرت کے لیے ایک اپنے واسطے دوسرا حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے واسطے،جب حضور نے ہجرت کی خبر دی تو حضرت صدیق نے وہ اونٹ پیش فرمایا، حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہاں منظور ہے مگر قیمت سے،چنانچہ حضور نے آٹھ سو درہم میں وہ اونٹ جناب صدیق سے خریدا مگر قرض۔(اشعہ)یہ ثابت نہیں کہ حضور انور سے یہ قرضہ جناب صدیق نے وصول بھی کیا اگر وصول کیا بھی ہوگا تو حضور ہی پر خرچ کیا ہوگا۔
۳؎یعنی غار ثور کی کئی راتیں کئی دن جناب صدیق نے میرے ساتھ گزارے کہ اس زمانہ میں ان کے سواء کسی نے مجھے نہ دیکھا،اس زمانہ میں ان کی عبادت تھی میرا منہ تکنا جو کسی اور کو میسر نہ تھی،اس غار میں مجھ پر جان فدا کی کہ میری حفاظت کرتے ہوئے سانپ سے اپنے پاؤں میں کٹوالیا یہ قربانی صرف انہوں نے کی رضی الله عنہ۔
۴؎سبحان الله!حضرت بلال کی خریداری ان کا آزاد کرنا حضور نے جناب صدیق اکبر کی قربانیوں کے سلسلہ میں بیان فرمایا ہے،حضرت بلال امیہ ابن خلف کے ہاتھوں بڑی مصیبت میں تھے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کوئی بلال کو خرید لیتا اور آزاد کرکے مجھ پر احسان کرتا حضرت صدیق نے پانچ سو درہم اور ایک قیمتی غلام نسطاس کے عوض جناب بلال رضی الله عنہ کو خریدا۔حضور نے فرمایا؎گفت پیغمبر کہ اے اقبال جو در خریدن می شوم انبار تو
گفت ماد و بندگان کوئے تو کرو مش آزاد ہم بر روئے تو
اے صدیق بلال کی آدھی قیمت ہم سے لے لو اور ہم تم دونوں بلال کے خریدار بنیں،جناب صدیق نے عرض کیا کہ میں اور بلال دونوں آپ کے آستانہ کے غلام حضور میں کس کا ہوں اور میرا پیسہ کس کا ہے حضور اسے میں نے آپ کی خدمت کے لیے آزاد کردیا؎چوں بدید آں خستہ روئے مصطفی خر مغشیا علیہ برقفا
جب بلال نے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا چہرہ انور دیکھا بے ہوش ہوکر گر پڑے حضور صلی الله علیہ وسلم نے بلال کا سر اپنے زانو پر رکھا فرمایا کہاوذیت فی سبیل اللهاے بلال تو الله کی راہ میں بہت ہی ستایا گیا۔حضرت عمر فرمایا کرتے تھےھو سیدنا واعتق سیدناابوبکرمیرے آقا ہیں انہوں نے میرے آقا بلال کو آزاد کرایا ہے تاقیامت مسلمانوں کے محسن اعظم ہیں۔ابوبکر صدیق ہم سب کے آقا حضرت بلال کو آپ نے ہی آزاد کیا،یوں ہی عامر ابن فہیرہ کو حضرت صدیق نے آزاد کیا جن کی لاش بعد شہادت آسمان پر اٹھائی گئی(بخاری شریف)رضی الله عنہم اجمعین خدا کرے مجھے صدیق بغیر قیمت ہی خریدلیں اور دوزخ سے آزاد کردیں؎تو ہے آزاد سفر سے ترے بندے آزاد ہے یہ سالک بھی ترا بندہ بے ذر صدیق
حضرت صدیق نے بہت لونڈیاں اور غلام وہ آزاد کیے جو کفار کے ہاتھوں سخت مصیبت میں تھے۔
۵؎یعنی خوشامد کی بناء پر کوئی ان کا دوست نہیں بہت لوگ خوشامدی ہوتے ہیں وہ خوشامدیوں کے دوست بھی ہوتے ہیں۔لہذا حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ الله رسول اور جناب صدیق اور مہاجرین و انصار بھی حضرت عمر کے دوست نہیں،نہ یہ حدیث اس آیت کے خلاف ہے"اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللهُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا"۔
۶؎حق سے مراد قرآن مجید ہے اس کی شرح وہ حدیث ہے جو امام جلال الدین سیوطی نے جمع الجوامع میں نقل فرمائی القرآن مع القرآن یعنی قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ۔ہم نے جناب علی کی شان میں عرض کیا ہے؎یہ ہے خاموش قرآن اور وہ قرآن ناطق ہیں نہ ہوں جس دل میں یہ اس میں نہیں قرآن کا رشتہ
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6134