Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6134

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللّٰهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهٗ وَحَمَلَنِي إِلٰى دَارِ الْهِجْرَةِ وَصَحِبَنِي فِي الْغَارِ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ. رَحِمَ اللّٰهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الحَقُّ وَمَا لَهٗ مِنْ صَدِيقٍ. رَحِمَ اللّٰهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ رَحِمَ اللّٰهُ عَلِيًّا اللّٰهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهٗ حَيْثُ دَارَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رحم الله أبا بكر زوجني ابنته وحملني إلى دار الهجرة وصحبني في الغار وأعتق بلالا من ماله. رحم الله عمر يقول الحق وإن كان مرا تركه الحق وما له من صديق. رحم الله عثمان تستحييه الملائكة رحم الله عليا اللهم أدر الحق معه حيث دار رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے الله ابوبکر پر رحمت کرے انہوں نے اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کردیا ۱∞؎اور مجھے ہجرت گاہ تک پہنچایا ۲؎اور غار میں میرے ساتھ رہے۳؎اور بلال کو اپنے مال سے آزاد کیا ۴؎الله عمر پر رحمت کرے کہ وہ حق بات کہتے ہیں اگرچہ کڑوی ہو انہیں حق نے ایسا کردیا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ۵؎الله عثمان پر رحمت کرے کہ ان سے فرشتے غیرت کرتے ہیں، الله علی پر رحمت کرے،الٰہی علی کے ساتھ حق کو گردش دے جدھر وہ گردش کریں ۶؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زندہ کو رحمۃ الله علیہ کہہ سکتے ہیں۔(مرقات)خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی دختر نیک اخترام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح حضور انور صلی الله علیہ و سلم سے کیا،اس میں اپنی بیٹی کی قربانی ہے جس کی وجوہ ابھی ہم کچھ پہلے عرض کرچکے ہیں اس لیے حضور انورصلی الله علیہ و سلم نے اسے صدیق اکبر کی قربانیوں کے سلسلے میں ذکر فرمایا۔
۲
؎اس طرح کہ غار ثور تک حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو اپنے کندھے پر لے گئے اور اس سے آگے حضور صلی الله علیہ و سلم کے مصاحب رفیق سفر رہے مدینہ منورہ تک۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے دو اونٹ پالے تھے ہجرت کے لیے ایک اپنے واسطے دوسرا حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے واسطے،جب حضور نے ہجرت کی خبر دی تو حضرت صدیق نے وہ اونٹ پیش فرمایا، حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہاں منظور ہے مگر قیمت سے،چنانچہ حضور نے آٹھ سو درہم میں وہ اونٹ جناب صدیق سے خریدا مگر قرض۔(اشعہ)یہ ثابت نہیں کہ حضور انور سے یہ قرضہ جناب صدیق نے وصول بھی کیا اگر وصول کیا بھی ہوگا تو حضور ہی پر خرچ کیا ہوگا۔
۳
؎یعنی غار ثور کی کئی راتیں کئی دن جناب صدیق نے میرے ساتھ گزارے کہ اس زمانہ میں ان کے سواء کسی نے مجھے نہ دیکھا،اس زمانہ میں ان کی عبادت تھی میرا منہ تکنا جو کسی اور کو میسر نہ تھی،اس غار میں مجھ پر جان فدا کی کہ میری حفاظت کرتے ہوئے سانپ سے اپنے پاؤں میں کٹوالیا یہ قربانی صرف انہوں نے کی رضی الله عنہ۔
۴
؎سبحان الله!حضرت بلال کی خریداری ان کا آزاد کرنا حضور نے جناب صدیق اکبر کی قربانیوں کے سلسلہ میں بیان فرمایا ہے،حضرت بلال امیہ ابن خلف کے ہاتھوں بڑی مصیبت میں تھے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کوئی بلال کو خرید لیتا اور آزاد کرکے مجھ پر احسان کرتا حضرت صدیق نے پانچ سو درہم اور ایک قیمتی غلام نسطاس کے عوض جناب بلال رضی الله عنہ کو خریدا۔حضور نے فرمایا؎گفت پیغمبر کہ اے اقبال جو در خریدن می شوم انبار تو
گفت ماد و بندگان کوئے تو کرو مش آزاد ہم بر روئے تو
اے صدیق بلال کی آدھی قیمت ہم سے لے لو اور ہم تم دونوں بلال کے خریدار بنیں،جناب صدیق نے عرض کیا کہ میں اور بلال دونوں آپ کے آستانہ کے غلام حضور میں کس کا ہوں اور میرا پیسہ کس کا ہے حضور اسے میں نے آپ کی خدمت کے لیے آزاد کردیا
؎چوں بدید آں خستہ روئے مصطفی خر مغشیا علیہ برقفا
جب بلال نے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا چہرہ انور دیکھا بے ہوش ہوکر گر پڑے حضور صلی الله علیہ وسلم نے بلال کا سر اپنے زانو پر رکھا فرمایا کہ
اوذیت فی سبیل اللهاے بلال تو الله کی راہ میں بہت ہی ستایا گیا۔حضرت عمر فرمایا کرتے تھےھو سیدنا واعتق سیدناابوبکرمیرے آقا ہیں انہوں نے میرے آقا بلال کو آزاد کرایا ہے تاقیامت مسلمانوں کے محسن اعظم ہیں۔ابوبکر صدیق ہم سب کے آقا حضرت بلال کو آپ نے ہی آزاد کیا،یوں ہی عامر ابن فہیرہ کو حضرت صدیق نے آزاد کیا جن کی لاش بعد شہادت آسمان پر اٹھائی گئی(بخاری شریف)رضی الله عنہم اجمعین خدا کرے مجھے صدیق بغیر قیمت ہی خریدلیں اور دوزخ سے آزاد کردیں؎تو ہے آزاد سفر سے ترے بندے آزاد ہے یہ سالک بھی ترا بندہ بے ذر صدیق
حضرت صدیق نے بہت لونڈیاں اور غلام وہ آزاد کیے جو کفار کے ہاتھوں سخت مصیبت میں تھے۔
۵
؎یعنی خوشامد کی بناء پر کوئی ان کا دوست نہیں بہت لوگ خوشامدی ہوتے ہیں وہ خوشامدیوں کے دوست بھی ہوتے ہیں۔لہذا حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ الله رسول اور جناب صدیق اور مہاجرین و انصار بھی حضرت عمر کے دوست نہیں،نہ یہ حدیث اس آیت کے خلاف ہے"اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللهُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا
۶
؎حق سے مراد قرآن مجید ہے اس کی شرح وہ حدیث ہے جو امام جلال الدین سیوطی نے جمع الجوامع میں نقل فرمائی القرآن مع القرآن یعنی قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ۔ہم نے جناب علی کی شان میں عرض کیا ہے؎یہ ہے خاموش قرآن اور وہ قرآن ناطق ہیں نہ ہوں جس دل میں یہ اس میں نہیں قرآن کا رشتہ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6134