Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6109

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقٰى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن قيس بن حازم قال: رأيت يد طلحة شلاء وقى بها النبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے جناب طلحہ کا ہاتھ شل دیکھا ۲؎جس سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احد کے دن حفاظت کی ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قوی یہ ہے کہ آپ تابعی ہیں،حضور انور کو زمانہ کفر میں دیکھا تھا،پھر جب اسلام کی بیعت کرنے حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوچکی تھی۔جن لوگوں نے آپ کو صحابی کہا ہے انہوں نے اس دیدار رسول سے دھوکا کھایا ہے جو آپ کو زمانہ کفر میں ہوا تھا۔آپ نے عشرہ مبشرہ میں سے نو صحابہ سے احادیث روایت کیں یہ کسی تابعی کو میسر نہیں ہوا،نہروان کے جہاد میں حضرت علی کے ساتھ تھے،آپ کی عمر سو برس سے زیادہ ہوئی، ۹۸؁ ∞ اٹھانوے میں وفات ہوئی سوائے عبدالرحمن ابن عوف کے عشرہ مبشرہ میں سے سب سے روایات لیں۔(مرقات)
۲
؎آپ طلحہ ابن عبداللہ ہیں،کنیت ابو محمد ہے،قرشی ہیں،قدیم الاسلام سواء بدر کے سارے غزوات میں شریک ہوئے بدر کے موقعہ پر انہیں حضور انور نے ابو سفیان کے قافلہ کی تلاش کے لیے بھیجا ہوا تھا جب واپس آئے تو جہاد ہوچکا تھا۔ (مرقات)آپ کو اس غیر حاضری کا بہت صدمہ ہوا فرمایا کہ اچھا اب اگر کوئی غزوہ ہوا تو میں اپنے رب کو دکھادوں گا کہ میں کیسی خدمت اسلام کروں گا،اگلے سال احد میں آپ شریک ہوئے جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور کفار نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا خچر گھیر لیا تو آپ حضور کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے جو تیر،تلوار،نیزہ حضور پر آتا آپ اپنے جسم شریف پر لے لیتے حتی کہ پچھتر زخم کھائے،جب صحابہ غزوہ احد کا ذکر کرتے تو کہتے کہ وہ دن ابو طلحہ کا دن تھا،آپ نہایت حسین تھے،آپ جمعرات کو پچیس جمادی اولیٰ ۳۶ھ؁ ∞ چھتیس جنگ جمل میں شہید ہوئے،چونسٹھ سال عمر پائی،بصرہ میں دفن ہوئے۔(مرقات و اشعہ)فقیر نے ان کے مزار کی زیارت کی ہے،آپ کے متعلق یہ آیت آئی:"فَمِنْهُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحْبَہٗ"انہوں نے اپنا مقصد حیات پورا کردیا نذر پوری کردی۔اشعہ نے فرمایا کہ آپ نے اسّی زخم کھائے حتی کہ ننگیز بھی زخمی ہوگیا تھا۔
۳
؎لوگ آپ کے اس سوکھے ہوئے ہاتھ شریف کی زیارت کرتے ہوں گے اس لیے فرمایارایت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6109