Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6133

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللّٰهِ: مَنْ نُؤَمِّرُ بَعْدَكَ؟ قَالَ: «إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا - وَلَا أَرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن علي قال: قيل لرسول الله: من نؤمر بعدك؟ قال: «إن تؤمروا أبا بكر تجدوه أمينا زاهدا في الدنيا راغبا في الآخرة وإن تؤمروا عمر تجدوه قويا أمينا لا يخاف في الله لومة لائم وإن تؤمروا عليا - ولا أراكم فاعلين تجدوه هاديا مهديا يأخذ بكم الطريق المستقيم» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ عرض کیا گیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ کے بعد ہم کسے امیر بنائیں ۱∞؎فرمایا اگر تم ابوبکر کو امیر بناؤ تو تم انہیں امین دنیا سے بے رغبت آخرت میں رغبت والا پاؤ گے ۲؎اور اگر تم عمر کو امیر بناؤ تو تم انہیں قوت والا امانت والا پاؤ گے کہ وہ الله کے بارے میں کسی ملامتی کی ملامت سے نہیں ڈرتے ۳؎اور اگر تم علی کو امیر بناؤ میں نہیں سمجھتا کہ تم ایسا کرو گے ۴؎تو تم انہیں ہدایت یافتہ پاؤ گے جو تمہیں سیدھے راستہ پر چلائیں گے ۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سوال جب کیا گیا جب کہ حضرات صحابہ کو یہ یقین ہوگیا کہ حضور انور کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ خلیفۃ المسلمین میں یہ صفات ہونا ضروری ہیں: امانت،زہدوتقویٰ،آخرت میں رغبت،صوفیاء فرماتے ہیں کہ اخلاص ذریعہ خلاص ہے۔
۳
؎یعنی حضرت عمر بھی خلافت کے لائق ہیں کہ ان میں قوت،امانت،دیانت،سیاست اور حق پر مضبوطی سے قائم رہنا،کسی کی پرواہ نہ کرنا ساری صفات موجود ہیں،دنیا نے دیکھ لیا کہ جناب عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں اسلام اور مسلمین کی کیسی خدمات کیں۔
۴
؎یعنی تم سب لوگ حضرت علی کو خلیفہ نہیں بناؤ گے ان کی خلافت پر مسلمان متفق نہ ہوں گے،اس میں غیبی خبر ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کی خلافت پر امت کا اجتماع نہیں ہوا۔خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر صدیق کا ذکر پہلے کیا پھر عمر فاروق کا پھر جناب علی کا اسی ترتیب سے خلافت ہوئی۔اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم لوگ حضرت علی مرتضٰی کو پہلا خلیفہ نہ بناؤ گے کہ قلم الٰہی اسی طرح چل چکا ہے کہ حضرت علی کی عمر ان دونوں سے زیادہ ہو اور وہ دونوں حضرات بھی خلیفہ بنیں اگر جناب علی پہلے خلیفہ ہوجاتے تو وہ صاحب خلیفہ نہ ہوسکتے حالانکہ ان دونوں کی خلافت بھی تقدیر مبرم ہوچکی ہے۔اس صورت میںلا اراکمکے معنی ہیں کہ مجھے یقین ہے تم علی کو پہلا خلیفہ نہ بناؤ گے۔حضور انور نے یا تو جناب عثمان کا ذکر فرمایا ہی نہیں یا فرمایا تھا مگر راوی نے یا اختصار کردیا یا اسے نسیان ہوگیا۔(اشعہ)
۵
؎یعنی جناب علی مرتضٰی رب کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور تم کو ہدایت دینے والے،جو لوگ انہیں خلیفہ مانیں گے وہ ہدایت پر ہوں گے،جو انہیں خلیفہ نہیں مانیں گے وہ اس معاملہ میں ہدایت پر نہ ہوں گے بلکہ باغی ہوں گے،یہ ہی اہلسنت کا مذہب ہے کہ حضرت علی خلیفہ برحق ہیں امیر معاویہ اس زمانہ میں باغی تھے۔حضرت علی کی ڈگری امیر معاویہ کی معافی اس کی تحقیق ہماری کتاب امیر معاویہ میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6133