Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6119

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ

ورواه ابن ماجه عن سعيد بن زيد

حدیث ترجمہ

اور ابن ماجہ نے حضرت سعید ابن زید سے روایت کی ۱∞؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ سعید ابن زید ابن عمرو ابن نفیل ہیں،آپ کا لقب اعور ہے،سواء بدر کے تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے، آپ بدر میں حضرت طلحہ کے ساتھ جاسوسی کے لیے ابو سفیان کے قافلہ کی تلاش میں بھیجے گئے تھے،حضور انورنے آپ کو بدر کی غنیمت سے حصہ دیا،فاطمہ بنت خطاب یعنی حضرت عمر کی بہن آپ کے نکاح میں تھیں،آپ ہی کے ذریعہ سے حضرت عمر ایمان لائے، آپ کے والد حضرت زید ابن عمرو نے اسلام سے پہلے دین کی تلاش میں حضرت ورقہ ابن نوفل کے ساتھ بہت سفر کیے،حضرت ورقہ تو عیسائی ہوگئے مگر آپ نہ ہوئے آپ دین ابراہیمی پر رہے،مکہ والوں سے فرمایا کرتے تھے کہ اے قریشیو میرے سواء تم میں سے کوئی دین ابراہیمی پر نہیں،جب سنتے کہ فلاں جگہ زندہ بچی دفن کی جانے والی ہے تو وہ بچی آپ اس کے ماں باپ سے لے آتے اس کی پرورش کرتے،جوان ہوجانے پر اس کے ماں باپ سے پوچھتے تھے کہ اگر تم کو چاہیے تو لے جاؤ ورنہ اس کی بیاہ شادی سب میں اپنے خرچ سے کروں گا۔(بخاری شریف، مرقات)قرآن شریف نے تین شخصوں کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ زمانہ جاہلیت میں بھی شرک و کفر سے بچے۔زید ابن عمرو ابن نفیل،ابو ذر،سلمان فارسی ان کے بارے میں یہ آیت ہے "وَالَّذِیۡنَ اجْتَنَبُوا الطّٰغُوۡتَ اَنۡ یَّعْبُدُوۡھَا"۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6119