- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6130
باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6130
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِنِسَائِهٖ: «إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يَهُمُّنِي مِنْ بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ الصِّدِّيقُونَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: يَعْنِي الْمُتَصَدِّقِينَ ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ سَقَى اللّٰهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ وَكَانَ ابنُ عوفٍ قَدْ تَصَدَّقَ عَلٰى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِحَدِيقَةٍ بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول لنسائه: «إن أمركن مما يهمني من بعدي ولن يصبر عليكن إلا الصابرون الصديقون» قالت عائشة: يعني المتصدقين ثم قالت عائشة لأبي سلمة بن عبد الرحمن سقى الله أباك من سلسبيل الجنة وكان ابن عوف قد تصدق على أمهات المؤمنين بحديقة بيعت بأربعين ألفا. رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم اپنی بیویوں سے فرماتے تھے کہ میرے بعد تمہارے حالات کی مجھے بڑی فکر ہے ۱∞؎تم پر صبر نہ کریں گے مگر صبر اور صدق والے ۲؎جناب عائشہ سے فرمایا یعنی صدقہ والے پھر حضرت عائشہ نے جناب ابو سلمہ ابن عبدالرحمن سے فرمایا ۳؎کہ الله تمہارے والد کو جنت کے سلسبیل سے پلائے اور ابن عوف نے امہات المؤمنین پر ایک باغ صدقہ کیا تھا۴؎جو چالیس ہزار میں فروخت ہوا ۵؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎ازواج مطہرات حضور انور کی وفات کے بعد کسی جگہ نکاح نہیں کرسکتیں اور نہ حضور انور کی میراث پاسکیں نہ رہنے کے لیے گھر اس لیے کبھی کبھی حضور انور کو یہ خیال آجاتا تھا تو دل مبارک پر اس کا اثر ظاہر ہوتا تھا،ان تمام ازواج مطہرات میں جناب عائشہ صدیقہ کا حال نہایت قابل فکر تھا کیونکہ آپ نکاح کے وقت سات سالہ تھیں حضور کی عمر شریف۴۵ سال حضور کی وفات شریف کے وقت آپ کی عمر شریف قریبااٹھارہ سال تھی کل عمر شریف تریپن سال ہوئی،عین جوانی میں حضور کا سایہ اٹھا پھر ساری عمر شریف ایسی بے سرو سامانی میں گزاری اس لیے حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوبکر نے مجھ پر احسان کیا کہ اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دی۔ہمارے برخودار مفتی محمد مختار نے عرض کیا ہے؎پونجی راہ خدا میں دے دی بیٹی نبی کے نکاح میں دے دی
جان کی لگائی بازی اکثر رضی الله تعالٰی عنہ
۲؎یعنی میرے بعد تمہاری خدمت وہ ہی کرتے رہیں گے جن میں صبر اور صدق دل کوٹ کوٹ کر بھری ہو کہ میرے بعد میری خاطر تمہاری خدمت عمر بھر کرتے رہیں۔
۳؎ابو سلمہ کی کنیت ہی نام ہے آپ حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بیٹے ہیں،خود تابعی ہیں،مدینہ منورہ کے مشہور سات فقہاء میں سے ہیں،آپ نے بڑے بڑے صحابہ سے احادیث روایت فرمائیں،آپ سے بڑے بڑے محدثین نے روایات لیں ہیں، ۹۷ ∞ستانوے میں وفات پائی بہتّر سال عمر ہوئی۔(مرقات)
۴؎یہاں صدقہ سے مراد خیرات نہیں ہے کوئی بیٹا اپنی ماں کو خیرات دیتا نہیں بلکہ اس سے مراد نذرانہ ہدیہ ہے جو لائق بیٹا اپنی ماں کی خدمت میں پیش کرتا ہے،صدقہ بہت معنی میں آتا ہے۔یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہم کھوٹی پونجی لائے ہیں"تَصَدَّقْ عَلَیۡنَا اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیۡنَ"وہاں صدقہ بمعنی نذرانہ ہے۔
۵؎حضرت عبدالرحمان ابن عوف کی سخاوت ملاحظہ ہو: (۱)حضور کی حیات شریف میں آپ نے ایک بار چار ہزار دینار خیرات کیے (۲)ایک بار چالیس ہزار دینار راهِ خدا میں دیئے(۳)ایک بار پانچ سو گھوڑے مجاہدوں کو دیئے(۴)ایک بار ڈیڑھ ہزار اونٹ راهِ خدا میں دیئے(۵)وفات کے وقت پچاس ہزار دینار خیرات کرنے کی وصیت کی(۶)ایک بار آپ بیمار ہوئے تو اپنا تہائی مال خیرات کرنے کی وصیت کی مگر بعد میں آرام ہوگیا تو وہ مال خود ہی خیرات کردیا(۷)ایک بار صحابہ سے کہا کہ جو اہل بدر سے ہو اسے فی کس چار سو دینار میں دوں گا(۸)ایک بار ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ دینار خیرات کیے رات کو حساب لگایا پھر بولے کہ میرے سارا مال مہاجرین و انصار پر صدقہ ہے حتی کہ فرمایا میری قمیض فلاں کو اور میرا عمامہ فلاں کو جبریل امین حاضر ہوئے،عرض کیا یارسول الله عبدالرحمن کے صدقات قبول انہیں بے حساب جنتی ہونے کی خبر دے دیجئے(۹)آپ نے تیس ہزار غلام آزاد کیے (۱۰)یہ واقعہ کہ ازواج مطہرات کی خدمت میں یہ باغ پیش کیا جس کا یہاں ذکر ہے۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6130