Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6130

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِنِسَائِهٖ: «إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يَهُمُّنِي مِنْ بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ الصِّدِّيقُونَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: يَعْنِي الْمُتَصَدِّقِينَ ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ سَقَى اللّٰهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ وَكَانَ ابنُ عوفٍ قَدْ تَصَدَّقَ عَلٰى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِحَدِيقَةٍ بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول لنسائه: «إن أمركن مما يهمني من بعدي ولن يصبر عليكن إلا الصابرون الصديقون» قالت عائشة: يعني المتصدقين ثم قالت عائشة لأبي سلمة بن عبد الرحمن سقى الله أباك من سلسبيل الجنة وكان ابن عوف قد تصدق على أمهات المؤمنين بحديقة بيعت بأربعين ألفا. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم اپنی بیویوں سے فرماتے تھے کہ میرے بعد تمہارے حالات کی مجھے بڑی فکر ہے ۱∞؎تم پر صبر نہ کریں گے مگر صبر اور صدق والے ۲؎جناب عائشہ سے فرمایا یعنی صدقہ والے پھر حضرت عائشہ نے جناب ابو سلمہ ابن عبدالرحمن سے فرمایا ۳؎کہ الله تمہارے والد کو جنت کے سلسبیل سے پلائے اور ابن عوف نے امہات المؤمنین پر ایک باغ صدقہ کیا تھا۴؎جو چالیس ہزار میں فروخت ہوا ۵؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎ازواج مطہرات حضور انور کی وفات کے بعد کسی جگہ نکاح نہیں کرسکتیں اور نہ حضور انور کی میراث پاسکیں نہ رہنے کے لیے گھر اس لیے کبھی کبھی حضور انور کو یہ خیال آجاتا تھا تو دل مبارک پر اس کا اثر ظاہر ہوتا تھا،ان تمام ازواج مطہرات میں جناب عائشہ صدیقہ کا حال نہایت قابل فکر تھا کیونکہ آپ نکاح کے وقت سات سالہ تھیں حضور کی عمر شریف۴۵ سال حضور کی وفات شریف کے وقت آپ کی عمر شریف قریبااٹھارہ سال تھی کل عمر شریف تریپن سال ہوئی،عین جوانی میں حضور کا سایہ اٹھا پھر ساری عمر شریف ایسی بے سرو سامانی میں گزاری اس لیے حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوبکر نے مجھ پر احسان کیا کہ اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دی۔ہمارے برخودار مفتی محمد مختار نے عرض کیا ہے؎پونجی راہ خدا میں دے دی بیٹی نبی کے نکاح میں دے دی
جان کی لگائی بازی اکثر رضی الله تعالٰی عنہ
۲
؎یعنی میرے بعد تمہاری خدمت وہ ہی کرتے رہیں گے جن میں صبر اور صدق دل کوٹ کوٹ کر بھری ہو کہ میرے بعد میری خاطر تمہاری خدمت عمر بھر کرتے رہیں۔
۳
؎ابو سلمہ کی کنیت ہی نام ہے آپ حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بیٹے ہیں،خود تابعی ہیں،مدینہ منورہ کے مشہور سات فقہاء میں سے ہیں،آپ نے بڑے بڑے صحابہ سے احادیث روایت فرمائیں،آپ سے بڑے بڑے محدثین نے روایات لیں ہیں، ۹۷؁ ∞ستانوے میں وفات پائی بہتّر سال عمر ہوئی۔(مرقات)
۴
؎یہاں صدقہ سے مراد خیرات نہیں ہے کوئی بیٹا اپنی ماں کو خیرات دیتا نہیں بلکہ اس سے مراد نذرانہ ہدیہ ہے جو لائق بیٹا اپنی ماں کی خدمت میں پیش کرتا ہے،صدقہ بہت معنی میں آتا ہے۔یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہم کھوٹی پونجی لائے ہیں"تَصَدَّقْ عَلَیۡنَا اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیۡنَ"وہاں صدقہ بمعنی نذرانہ ہے۔
۵
؎حضرت عبدالرحمان ابن عوف کی سخاوت ملاحظہ ہو: (۱)حضور کی حیات شریف میں آپ نے ایک بار چار ہزار دینار خیرات کیے (۲)ایک بار چالیس ہزار دینار راهِ خدا میں دیئے(۳)ایک بار پانچ سو گھوڑے مجاہدوں کو دیئے(۴)ایک بار ڈیڑھ ہزار اونٹ راهِ خدا میں دیئے(۵)وفات کے وقت پچاس ہزار دینار خیرات کرنے کی وصیت کی(۶)ایک بار آپ بیمار ہوئے تو اپنا تہائی مال خیرات کرنے کی وصیت کی مگر بعد میں آرام ہوگیا تو وہ مال خود ہی خیرات کردیا(۷)ایک بار صحابہ سے کہا کہ جو اہل بدر سے ہو اسے فی کس چار سو دینار میں دوں گا(۸)ایک بار ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ دینار خیرات کیے رات کو حساب لگایا پھر بولے کہ میرے سارا مال مہاجرین و انصار پر صدقہ ہے حتی کہ فرمایا میری قمیض فلاں کو اور میرا عمامہ فلاں کو جبریل امین حاضر ہوئے،عرض کیا یارسول الله عبدالرحمن کے صدقات قبول انہیں بے حساب جنتی ہونے کی خبر دے دیجئے(۹)آپ نے تیس ہزار غلام آزاد کیے (۱۰)یہ واقعہ کہ ازواج مطہرات کی خدمت میں یہ باغ پیش کیا جس کا یہاں ذکر ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6130