Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6118

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَن عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن عبد الرحمن بن عوف أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد بن أبي وقاص في الجنة وسعيد بن زيد في الجنة وأبو عبيدة بن الجراح في الجنة . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الرحمن ابن عوف سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر جنتی ہیں اور عمر جنتی ہیں اور عثمان جنتی ہیں اور علی جنتی ہیں ۲؎طلحہ جنتی ہیں اور زبیرجنتی ہیں اور حضرت عبد الرحمن ابن عوف جنتی ہیں اور سعد ابن ابی وقاص جنتی ہیں اور سعید ابن زید جنتی ہیں اور ابوعبیدہ ابن جراح جنتی ہیں ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام اسلام سے پہلے عبدالکعبہ تھا مسلمان ہوجانے پر حضور نے آپ کا نام عبدالرحمن رکھا،آپ کی کنیت ابو محمد ہے، زہری قرشی ہے،حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کو مسلمان کیا آپ صاحبِ ہجرتیں ہیں،پہلے مکہ معظمہ سے حبشہ کی طرف پھر حبشہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی،تمام غزوہ میں حضور انور کے ساتھ رہے غزوہ احد میں ڈٹے رہے،حضور انور نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر آپ کے پیچھے نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی سواء آپ کے کسی کے پیچھے حضور نے نماز نہیں پڑھی،احد کے دن آپ کو اکیس زخم لگے،پاؤں کے زخموں کی وجہ سے آپ کے ایک پاؤں میں لنگ ہوگئی تھی،آپ واقعہ فیل سے دس سال بعد پیدا ہوئے، ۳۲ھ؁ ∞ بتیس میں وفات پائی بہتر سال عمر ہوئی،بقیع شریف میں دفن ہوئے۔ (مرقات)
۲
؎اکثر حضورصلی الله علیہ و سلم کے کلام مبارک میں ان چار حضرات کا ذکر اسی ترتیب سے ہوتا ہے ابوبکر،عمر،عثمان،علی۔اسی ترتیب ذکری سے ان کے ترتیب مراتب کے طرف اشارہ ہوتاہے۔بعد رسل حضرت ابوبکر صدیق ساری خلقت سے افضل ہیں،پھر حضرت عمر،پھر حضرت عثمان،پھر حضرت علی۔ ترتیب خلافت کی طرف سے بھی اشارہ ہوتا ہے،حضور صلی الله علیہ و سلم کے ہر فرمان میں صدہا حکمتیں ہوتی ہیں۔ (از مرقات)۳؎یہ وہ حدیث ہے جس کی بنا پر اس مبارک جماعت کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے یعنی ایک حدیث میں ان دس کو نام بنام جنت کی بشارت دی گئی ورنہ حضور کا ہر صحابی مبشر بالجنتہ ہے،رب فرماتاہے:"وَکُلًّا وَّعَدَ اللهُ الْحُسْنٰی"۔ان ناموں کی یہ ترتیب خود حضور انور نے ہی دی ہے راوی نے نہیں دی اسی ترتیب سے ان کے درجات ہیں۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6118