Main Icon

باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4052

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بِثَلَاثَةٍ؛ قَالَ: "أَخْرِجُوا الْمُشْرِكينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ، أَو قَالَ: فَأُنْسِيتُهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أوصى بثلاثة؛ قال: "أخرجوا المشركين من جزيرة العرب، وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم". قال ابن عباس: وسكت عن الثالثة، أو قال: فأنسيتها. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین چیزوں کی وصیت کی مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو ۱؎اور وفود کو عطیہ دو جیسے انہیں عطیہ دیتا تھا ۲؎ابن عباس نے فرمایا کہ تیسری وصیت سے خاموشی فرمائی ۳؎یا کہا کہ میں بھول گیا۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بعض شارحین نے یہاں جزیرہ عرب سے مراد حجاز لیا ہے،امام شافعی کے ہاں بھی صرف حجاز مراد ہے یعنی مکہ مدینہ اور یمامہ۔(اشعہ)
۲
؎یہ دوسری وصیت ہے یعنی جو لوگ اپنی قوم کے نمائندے بن کر مدینہ منورہ آئیں ان کی خاطر و مدارات کرو،انہیں تحفے تحائف دو جیساکہ ہمارا عمل رہا۔سرکار صلی اللہ علیہ و سلم ان وفدوں کی آمد پر بہت خوشی ظاہر فرماتے تھے،یہ لوگ اپنی قوم کی طرف سے ایمان انکی وفاداری کے عہد کے پیغام لے کر آتے تھے،حضور سے بیعت کراتے تھے حضور سے بیعت کرتے تھے،ان کی بیعت ساری قوم کی بیعت ہوتی تھی۔
۳
؎یہا ں کچھ کتابت کی غلطی ہےقالکا فاعل حضرت ابن عباس نہیں ہیں بلکہ سلیمان احول ہیں جو سعید ابن جبیر سے راوی وہ عبد اللہ ابن عباس سے راوی،یعنی سلیمان کہتے ہیں کہ سعید ابن جبیر تیسری وصیت کے بیان سے خاموش رہے یا انہوں نے بیان فرمائی تھی مجھے یاد نہ رہی،ممکن ہے کہ تیسری وصیت یہ ہو کہ تم میری قبر کو بت نہ بنالینا جس کی پرستش کی جائے۔واﷲ ورسولہ اعلم!(اشعہ،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4052