Main Icon

باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4054

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلٰى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُوْدَ مِنْهَا، وَكَانَتِ الأَرْضُ لَمَّا ظُهِرَ عَلَيْهَا للّٰهِ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَسَأَلَ الْيَهُوْدُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلٰى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نُقِرُّكُمْ عَلٰى ذٰلِكَ مَا شِئْنَا"، فَأُقِرُّوْا حتّٰى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي إِمَارَتهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن عمر: أن عمر بن الخطاب أجلى اليهود والنصارى من أرض الحجاز، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما ظهر على أهل خيبر أراد أن يخرج اليهود منها، وكانت الأرض لما ظهر عليها لله ولرسوله وللمسلمين، فسأل اليهود رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتركهم على أن يكفوا العمل ولهم نصف الثمر. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "نقركم على ذلك ما شئنا"، فأقروا حتى أجلاهم عمر في إمارته إلى تيماء وأريحاء. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے یہودونصاریٰ کو حجاز کی زمین سے نکال دیا ۱؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب خیبر والوں پر غالب ہوئے تھے تو وہاں سے یہود کو نکالنا چاہا تھا ۲؎جب حضور اس پر غالب ہوئے تو وہ زمینرسول اور سارے مسلمانوں کی تھی۳؎تب یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سوال کیا کہ انہیں یہاں ہی چھوڑ دیں اس شرط پر کہ وہ لوگ کام کاج کریں اور مسلمانوں کے لیے آدھے پھل ہوں۴؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم تم کو اس ہی شرط پر رکھتے ہیں جب تک چاہیں چنانچہ وہ قائم رہے حتی کہ ان کو حضرت عمر نے اپنی خلافت میں تیما اور اریحا کی طرف جلاوطن کردیا ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ زمین حجاز سے مراد جزیرہ عرب ہے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام ملک عرب سے یہود کو نکال دیا۔
۲
؎اس نکالنے کی چند وجہیں ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔
۳
؎یعنی یہ زمین مسلمانوں کی ملک قرار دی گئی دوسرے علاقوں کی طرح زمین وہاں کے باشندوں کی نہ رکھی گئی اللہ کا ذکر برکت کے لیے ہے۔
۴
؎یعنی باغات کی خدمت یہ لوگ کریں مالک مسلمان ہوں اور پیداوار آدھی آدھی ہو اس طرح کہ مسلمانوں کو ملکیت کی وجہ سے آدھی پیداوار ملے اور ان یہود کو خدمت کی وجہ سے آدھی پیداوار ملے اسے اردو میں ٹھیکہ کہتے ہیں۔
۵
؎یہ دونوں بستیاں بیت المقدس کے پاس ہیں ملک فلسطین میں،بعض شارحین نے فرمایا کہ تیما تو عرب میں واقع ہے اور اریحاء ملک فلسطین کہلاتا ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4054