Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 609

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أَيُّوْبَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَزَالُ أُمَّتِيْ بِخَيْرٍ أَوْ قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي أيوب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا يزال أمتي بخير أو قال: على الفطرة ما لم يؤخروا المغرب إلى أن تشتبك النجوم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت بھلائی پریافرمایا فطرت پر رہیگی ۱؎جب تک مغرب کو تاروں کے گتھ جانے تک پیچھے نہ کریں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎فطرت سے مراد اسلام ہے،یا سنت انبیاء،یا اسلام کی دائمی سنت۔
۲
؎اس سےمعلوم ہواکہ مغرب میں اتنی تاخیر مکروہ ہے جب تارے خوب چمک جائیں اور سارے تارے ظاہر ہوکرگھنے پڑ جائیں،جیسے روافض کی مغرب کا وقت۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ شفق سفیدی کا نام ہے نہ کہ سرخی کا،سفیدی میں وقت مغرب رہتا ہے کیو نکہ تاروں کا گتھنا اورگھنا پڑنا سرخی کے وقت نہیں ہوتا،سفیدی کے وقت ہوتا ہے اس وقت کوحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کا آخری وقت قرار دیا،اسے تاخیرمغرب فرمایا،قضاءنہ فرمایا۔اس سے معلوم ہواکہاِنْ شَاءَاﷲُاہل سنت خیر پر ہیں اور رہیں گے کیونکہ یہ مغرب جلدی پڑھتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 609