Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 604

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِيْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ليس في النوم تفريط، إنما التفريط في اليقظة، فإذا نسي أحدكم صلاة أو نام عنها فليصلها إذا ذكرها، فإن الله تعالى قال: وأقم الصلاة لذكري. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سوجانے میں کوتاہی(قصور)نہیں کوتاہی صرف بیداری میں ہے ۱؎تو جب کوئی نمازبھول جائے یا اس سے غافل ہوکرسوجائے جب یاد آئے تو پڑھ لے چونکہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ میری یاد کے وقت نماز قائم کرو ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگرنماز کے وقت اتفاقًا آنکھ نہ کھلے اورنمازقضاہوجائے تو گناہ نہیں۔گناہ اس میں ہے کہ انسان جاگتا رہے اور دانستہ نماز قضاءکردے۔خیال رہے کہ اگروقت پر آنکھ نہ کھلنا اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہو تو گناہ ہے جیسے رات کو بلاوجہ دیرمیں سونا جس سے دن چڑھے آنکھ کھلے یقینًا جرم ہے۔
۲
؎یعنی جب میں یاد آؤں تونمازپڑھو اس آیت کی اور بہت تفسیریں ہیں۔بہت پیاری اورقوی تفسیر وہی ہے جو خودحضورفرمائیں۔خیال رہے کہ یہاں یہ نہ فرمایا کہ جب نمازیادآجائے توپڑھو بلکہ فرمایا جب میں یاد آؤں تو پڑھو،کہ معلوم ہوا کہ خداکویاد رکھنے والانمازنہیں بھول سکتااورنماز پابندی کرنے والااِنْ شَاءَاللّٰهُخدا سے غافل نہیں ہوسکتا۔اس آیت کی اور بہت سی تفسیریں ہماری تفسیر"نورالعرفان" میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 604