Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 623

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ اللّٰهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ: أَنَّهٗ دَخَلَ عَلٰى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا تَرٰى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ، وَنَتَحَرَّجُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاؤُوْا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عبيد الله بن عدي بن الخيار: أنه دخل على عثمان وهو محصور، فقال: إنك إمام عامة، ونزل بك ما ترى، ويصلي لنا إمام فتنة، ونتحرج، فقال: الصلاة أحسن ما يعمل الناس، فإذا أحسن الناس فأحسن معهم، وإذا أساؤوا فاجتنب إساءتهم. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبیداللہ ابن عدی ابن خیار سے ۱؎کہ وہ حضرت عثمان کے پاس گئے جب کہ آپ محاصرہ میں تھے۲؎عرض کیا کہ آپ عام لوگوں کے امام ہیں اورآپ پر وہ بلا اتری ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور ہم کوفتنے کا امام نمازپڑھا رہاہے ۳؎ہم اس میں حرج سمجھتے ہیں آپ نے فرمایا کہ نمازانسان کے سارے اعمال سے بہترہے تو جب لوگ بھلائی کریں تو تم بھی ان کے ساتھ بھلائی کرو ۴؎اورجب برائی کریں تو تم ان کی برائی سے بچو (بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عظیم الشان تابعی ہیں،قرشی ہیں،زہری یا نوفلی ہیں، حضور کے زمانہ میں پیداہوچکے تھے مگر آپ کے ہوش سنبھالنے سے پہلے حضور کی وفات ہوگئی۔
۲
؎مصر کے باغیوں نے آپ کو خلافت سے معزول کرنے یاشہیدکرنے کے ارادہ سے آپ کا گھر اس طرح گھیرلیاتھا کہ آپ کئی وقت نماز کے لئے مسجد نبوی میں نہ آسکے،اور آپ کے گھر میں پانی کا ایک قطرہ نہ جاسکا،آپ کی شہادت کا یہ واقعہ بہت دراز ہے،کچھ"کتاب المناقب"میں بیان کیاجائے گا۔اِنْ شَاءَاللهُحضرت عبیداللہ کسی صورت سے آپ کے پاس گھرمیں پہنچ گئے۔
۳
؎یعنی خلیفۃ المسلمین تو آپ ہیں،نمازپڑھانے کا حق آپ کویا آپ کے مقررکردہ امام کو تھا مگراب باغیوں نے مسجدنبوی شریف میں اپنا امام مقررکردیاہے ہم اس کے پیچھے نمازپڑھیں یا نہ،باغیوں کے مقرر کردہ امام کانام کنانہ بن بشرتھا۔
۴
؎یعنی نیک کاموں میں ان کے ساتھ ہوجاؤ اورانکی برائیوں میں شریک نہ ہو،نہ ان کو مدد دو،نمازنیک عمل ہے ان کے پیچھے پڑھ لو۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر بدعقیدہ کی بدعقیدگی کفر تک نہ پہنچی ہو اور وہ امام بن گیا ہوتو اس کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے،یہی اس حدیث کا مطلب ہے کہ ہرنیک اور فاجرکے پیچھے نمازپڑھو،یہی فقہاءفرماتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 623