Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 593

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ: يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰى إِذَا اصْفَرَّتْ، وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللّٰهَ فِيْهَا إِلَّا قَلِيْلًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تلك صلاة المنافق: يجلس يرقب الشمس حتى إذا اصفرت، وكانت بين قرني الشيطان، قام فنقر أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ منافق کی نمازہے کہ بیٹھا ہواسورج کا انتظار کرتا رہے حتی کہ جب پیلا پڑجائے اورشیطان کے دوسینگوں کے بیچ آجائے توکھڑاہوکرچار چونچیں مارے کہ ان میں اللہ کا تھوڑا ہی ذکر کرے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ دنیوی کاروبار میں پھنس کرنماز عصر دیر سے پڑھنا منافقوں کی علامت ہے۔ دوسرے یہ کہ غروب سے۲۰منٹ پہلے کراہت کا وقت ہے،وقت مستحب میں عصر پڑھنا چاہیئے۔تیسرے یہ کہ رکوع اورسجدہ بہت اطمینان سے کرنا چاہیئے،حضور نے جلدبازسجدے کومرغ کے چونچ مارنے سے تشبیہ دی جو وہ دانہ چگتے وقت زمین پرجلدی جلدی مارتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 593