Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 605

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "يَا عَلِيُّ، ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ، وَالْجِنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفُؤًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن علي: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤا". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اے علی تین چیزوں میں دیر نہ لگاؤ نمازجب آجائے ۱؎اورجنازہ جب تیارہوجائے اور لڑکی جب اس کا ہم قوم مل جائے
۲
؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱؎یعنی جب نماز کا وقت مستحب آجائے تودیر مت لگاؤ،لہذا یہ حدیث نہ تو حنفیوں کے خلاف ہے نہ شوافع کی تائید،نہ دوسری احادیث سے متعارض کیونکہ عشاء سب کے نزدیک دیر سے ہی پڑھناچاہئے۔
۲
؎اَیِّمْاصل میںاَیْوَمْتھاواؤ،یہوکریمیں مدغم ہوگیا۔اَیِّمْبے خاوند والی بالغہ عورت کو کہتے ہیں کنواری ہویابیوہ،یعنی جب لڑکی کے لئے مناسب رشتہ مل جائے تو بلاوجہ دیرمت لگاؤ کہ اس میں ہزار ہافتنہ ہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ اگر وقت مکروہ میں جنازہ آئے تب بھی اس پرنماز پڑھ لیجائے یہی حنفیوں کا مذہب ہے۔ممنوع یہ ہے کہ جنازہ پہلے تیارہومگرنمازوقت مکروہ میں پڑھی جائے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور نے سورج نکلتے،ڈوبتے اوربیچ دوپہری میں نمازجنازہ سے منع فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 605