Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 592

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهِمْ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، وَبَعْضُ الْعَوَالِيْ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلٰى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلي العصر والشمس مرتفعة حية، فيذهب الذاهب إلى العوالي فيأتيهم، والشمس مرتفعة، وبعض العوالي من المدينة على أربعة أميال أو نحوه. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر اس وقت پڑھتے تھے کہ سورج بلنداورصاف ہوتاتھاکہ جانے والا اطراف مدینہ کی طرف جاتاوہاں اس وقت پہنچ جاتاکہ سورج بلندہوتاحالانکہ بعض اطراف مدینہ سے چار میل یا اس کی مثل تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے نہ تو یہ ثابت ہوتاہے کہ عصردومثل سے پہلے پڑھتے تھے اور نہ یہ کہ عصراول وقت پڑھ لیتے تھے،حنفی وقت میں (غروب آفتاب سے ۵۰منٹ پہلے)عصر پڑھ کر اتنی دوربے تکلف چلاجاسکتا ہے۔طحاوی شریف میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ اس وقت عصر پڑھتے جب دھوپ اونچے پہاڑ پرنظرآتی تھی۔اورسیدنافاروق اعظم نے اپنے عمّال کو لکھا کہ صحابہ کرام نمازعصردیرمیں پڑھتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 592