Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 618

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ حَتّٰى مَضٰى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: "خُذُوْا مَقَاعِدَكُمْ" فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا، فَقَالَ: "إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوْا وَأَخَذُوْا مَضَاجِعَهُمْ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوْا فِيْ صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيْفِ وَسَقَمُ السَّقِيْمِ لأَخَّرْتُ هٰذِهِ الصَّلَاةَ إِلٰى شَطْرِ اللَّيْلِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن أبي سعيد قال: صلينا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلاة العتمة فلم يخرج حتى مضى نحو من شطر الليل، فقال: "خذوا مقاعدكم" فأخذنا مقاعدنا، فقال: "إن الناس قد صلوا وأخذوا مضاجعهم، وإنكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة، ولولا ضعف الضعيف وسقم السقيم لأخرت هذه الصلاة إلى شطر الليل"رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعیدسے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاءکی نمازپڑھی پس تشریف نہ لائے حتی کہ قریبًا آدھی رات گزرگئی ۱؎پھرفرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو چنانچہ ہم اپنی جگہ بیٹھے رہے پھرفرمایاکہ لوگ نماز پڑھ چکے اوراپنے بستروں پر چلے گئے ۲؎اورتم نماز ہی میں رہے جب تک کہ نماز کا انتظارکرتے رہے اوراگر کمزوروں کی کمزوری اوربیماروں کی بیماری نہ ہوتی تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر(پیچھے) کردیتا ۳؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎نماز پڑھنے سے مراد پڑھنے کا ارادہ کرنا ہے۔صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ حضور خواہ کتنی ہی دیرمیں تشریف لاتے مگر نہ حضور کو نماز کے لئے بلاتے تھے نہ اکیلے پڑھ لیتے اور نہ اپنی جماعت علیحدہ کرلیتے،وہ سمجھتے تھے کہ حضور کے ساتھ کی قضا علیحدہ اداسے افضل ہے۔
۲
؎ظاہریہ ہے کہ ان لوگوں سے مراد وہ مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی مسجدوں میں عشاءپڑھ لی یاوہ عورتیں،بچے جوگھروں میں اکیلے عشاءپڑھ کرسو گئے،اہل کتاب مرادنہیں کیونکہ ان کے دین میں عشاءتھی ہی نہیں۔
۳
؎شَطْرِلَیْلْسے مرادتقریبًا آدھی رات ہے یعنی تہائی۔اَخَّرْتُسے معلوم ہوا کہ حضورکو نمازیں آگے پیچھے کرنے کا اختیاردیاگیاہے،آپ بعطاءالٰہی احکام شرعیہ کے مالک ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ نمازکا انتظار مطلقًا عبادت ہے مگرمسجدمیں بیٹھ کر انتظار بڑی عبادت،اسی لئے اس حالت میں انگلیوں میں انگلی ڈالنا منع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 618