Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 614

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ، وَلَيْسَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ: "فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ".

وعن رافع بن خديج قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر" رواه الترمذي وأبو داود والدارمي، وليس عند النسائي: "فإنه أعظم للأجر".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجرروشنی میں پڑھوکیونکہ اس کا ثواب بڑا ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی) ۲؎اورنسائی کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ اس کا ثواب بڑا ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ فجر اجیالے میں پڑھنی چاہیئے۔خیال رہے کہ تاریکی میں فجر پڑھنے کی عملی حدیثیں تو ہیں مگرقولی حدیث کوئی نہیں۔ان احادیث میں احتمال ہے کہ شایدمسجد کی تاریکی ہوتی ہو نہ کہ وقت کی مگر اس حدیث میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی،اسی لئےصحابہ کرام فجراجیالے میں پڑھتے تھے،جیسا کہ بہت احادیث سے ثابت ہے۔ہم نے وہ احادیث اپنی کتاب "جاء الحق"حصہ دوم میں جمع کی ہیں۔اس حدیث کی تائیددوچیزوں سے ہوتی ہے:ایک یہ کہ مسلم،بخاری نے سیدنا ابن مسعودسے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں فجرکی نماز روزانہ کے وقت سے پہلے پڑھی تو اگرحضور روز پوپھٹتے ہی فجر پڑھتے ہوتے تو آج مزدلفہ میں کس وقت پڑھی؟کیا وقت شروع ہونے سے پہلے پڑھ لی؟ لہذا اس حدیث کا یہی مطلب ہوگا کہ روزانہ اجالے میں پڑھتے تھے آج اندھیرے میں پڑھی،یہی حنفیوں کا مذہب ہے۔دوسرے یہ کہ نمازفجربہت چیزوں میں نمازمغرب کے حکم میں ہے،مغرب میں اجالا سنت ہے تو یہاں بھی اجالا ہی چاہئے،ہاں وہاں اجالا اول وقت ہوتا ہے،فجر میں آخر وقت۔اس کی پوری بحث "جاء الحق"میں دیکھو۔
۲
؎ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے،نیز یہ حدیث ابن ماجہ،بیہقی،ابوداؤد،وطیالسی اورطبرانی میں بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 614