Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 611

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰى أُمَّتِيْ لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهٖ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن يؤخروا العشاء إلى ثلث الليل أو نصفه". رواه أحمد والترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت پرمشقت ڈال دوں گا تو انہیں حکم دیتا کہ عشاءکوتہائی یا آدھی رات تک پیچھے کریں ۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اَوْ نِصْفِہٖمیں راوی کو شک ہے کہ حضورنے یا تہائی فرمایا یا آدھا،یہ حدیث ان احادیث کی شرح ہے جن میں اول وقت نماز پڑھنے کی ترغیب ہے،اس حدیث نے بتایا کہ وہاں اول وقت سے اول وقتِ مستحب مرادتھا۔مطلب یہ ہے کہ اگر امت پرگرانی کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی اتنی تاخیر کو فرض قراردے دیتا کہ اس سے پہلے عشاءجائز ہی نہ ہوتی،اب یہ تاخیرسنت تو ہے فرض نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم باذنِ الٰہی احکام شرعیہ کے مالک ومختارہیں کہ بحکمِ پروردگار جوچاہیں فرض کریں جو چاہیں فرض نہ کریں۔اس کے لئے ہماری کتاب "سلطنت مصطفےٰ"دیکھو۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور امت پر ایسے رحیم وکریم ہیں کہ عبادات میں بھی امت کی راحت کا خیال رکھتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 611