Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 598

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَتَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنها قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ليصلي الصبح فتنصرف النساء متلفعات بمروطهن ما يعرفن من الغلس. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تھے پھرعورتیں اپنی چادروں میں لپیٹی ہوئی لوٹ جاتی تھیں اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ اندھیرا یا تو مسجدکاہوتا تھا کیونکہ مسجد نبوی بہت گہری تھی یا وقت کا کیونکہ سر کار(صلی اللہ علیہ وسلم) نماز فجراول وقت میں ادا فرماتے تھے ان نمازی عورتوں کی وجہ سے تاکہ اندھیرے ہی میں اپنے گھر چلی جائیں پھرعورتوں کومسجد میں آنے سے روک دیا گیا تب یہ حکم بھی بدل گیا۔پہلی صورت میں یہ حدیث محکم اور ہمارے واسطے لائق عمل ہے۔دوسری صورت میں یہ عمل اس وقت کے لحاظ سے ہے اورحضورکی خصوصیات سے۔ہم نے توجیہیں اس لئے کیں کہ آگے فجراجیالے میں پڑھنے کا حکم آرہاہے اس توجیہ کی بنا پر یہ فعلی حدیث اس قولی کے خلاف نہ ہوگی۔غالبًا یہ بیبیاں سلام پھیرتے ہی دعا سے پہلے چلی جاتی تھیں جیساکہفَتَنْصَرِفُکی "ف"سے معلوم ہورہاہے اورمرد دعاکے بعدجاتے تھے تاکہ عورتوں اورمردوں کا اختلاط نہ ہو۔خیال رہے کہ حضرت عمر فاروق نےعورتوں کو مسجد وں سے روک دیاحضرت عائشہ صدیقہ نے اس کی تائیدکی اورفرمایا کہ اگرحضورانوربھی آج کے حالات دیکھتے توعورتوں کومسجد سے روک دیتے افسوس ان لوگوں پرجو اس دورمیں اپنی عورتوں کو بے پردہ سینما اوربازاروں میں بھیجیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 598