Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 621

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّهَا سَتَكُوْنُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا حَتّٰى يَذْهَبَ وَقْتُهَا فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا". فَقَالَ رَجُل: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ أُصَلِّيْ مَعَهُمْ؟ قَالَ: "نَعَمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عبادة بن الصامت قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنها ستكون عليكم بعدي أمراء يشغلهم أشياء عن الصلاة لوقتها حتى يذهب وقتها فصلوا الصلاة لوقتها". فقال رجل: يا رسول الله أصلي معهم؟ قال: "نعم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ بن صامت سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم پر ایسے حکام ہوں گے جنہیں کچھ چیزیں وقت پر نماز پڑھنے سے روک دیں گی ۱؎یہاں تک کہ ان کے وقت نکل جایا کریں گے تو تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرو ۲؎ایک صاحب بولے کہ یارسول اللہ ان کے ساتھ بھی ہم نماز پڑھاکریں فرمایا ہاں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں خطاب صحابہ سے ہے اور اس میں غیبی خبرہے اور یہ خبرہوبہوپوری ہوئی،چنانچہ یزید ابن معاویہ اورحجاج ابن یوسف کے زمانہ میں ایسے حکام مقررہوئے جو نمازوں میں سستی کرتے اور مکروہ وقت میں پڑھتے تھے اوران کے بغیر امام نماز نہ پڑھا سکتے تھے۔ یہ ہے حضور کاعلم غیب اب تو حکام کو نمازسے کچھ تعلق ہی نہیں انہوں نے مسجد کا راستہ بھی نہیں دیکھا۔اِلَّامَاشَآءَالله!۲؎یعنی ان کی وجہ سے تم نمازمکروہ وقت میں نہ پڑھنا بلکہ اپنے گھروں میں یامسجدوں میں اکیلے یا اپنی جماعت الگ کرکے وقت مستحب پر اداکرلیاکرنا۔
۳
؎تاکہ ان کے شر سے بچو کیونکہ اگرتم ان کے ساتھ نمازوں میں شامل نہ ہوگے تو وہ تم پربدگمانی کرکے تمہیں ایذاپہنچائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 621