Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 599

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَتَادَةَ عَن أَنَسٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلّٰى قُلْنَا لأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا وَدخُوْلِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِيْنَ آيَةً. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن قتادة عن أنس: أن نبي الله -صلى الله عليه وسلم- وزيد بن ثابت تسحرا، فلما فرغا من سحورهما قام نبي الله -صلى الله عليه وسلم- إلى الصلاة فصلى قلنا لأنس: كم كان بين فراغهما من سحورهما ودخولهما في الصلاة؟ قال: قدر ما يقرأ الرجل خمسين آية. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎وہ حضرت انس سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورزید ابن ثابت نے سحری کھائی جب سحری سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازکی طرف اٹھے اورنماز پڑھ لی ہم نے حضرت انس سے کہا کہ ان بزرگوں کے سحری سے فراغت اورنمازکی مشغولیت میں کتنا فاصلہ تھا فرمایا اس قدر کہ کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور تابعین میں سے ہیں،بہترین حافظ ومفسرتھے،مادر زاد نابیناتھے،حافظہ غضب کاپایاتھا،قبیلہ سَدُوس سے تھے،بصرےٰ میں قیام تھے، ۱۱۷ھمیں وفات پائی۔آپ سے خواجہ حسن بصری جیسے بزرگوں نے روایت لیں۔
۲
؎یعنی سحری بالکل آخروقت کھائی اورفجربالکل اول وقت پڑھی۔مرقات نے فرمایا کہ سحری اورنمازفجرمیں صرف اتنا فاصلہ حضور انور کی خصوصیات سے ہے کیونکہ آپ دین میں خطاء سے معصوم تھے حضور کو سحری اورنماز کے اوقات کا یقینی علم تھا۔ہمیں صرف اتنے فاصلہ پرفجرجائزنہیں کیونکہ ممکن ہے کہ ہم وقت کی پہچان میں غلطی کرکے،یاسحری وقت کے بعدکھالیں،یانماز وقت سے پہلے پڑھ لیں۔ خیال رہے کہ فجرجلدی پڑھنے کی عملی احادیث ہیں لیکن قولی حدیث ایک بھی نہیں مگر دیرسے فجرپڑھنے کی قولی حدیثیں بہت موجود ہیں،لہذا مذہب حنفی نہایت ہی قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 599