Main Icon

باب : جلدنمازپڑھنے کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 617

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا، وَكَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر بن سمرة قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلي الصلوات نحوا من صلاتكم، وكان يؤخر العتمة بعد صلاتكم شيئا، وكان يخفف الصلاة. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابربن سمرہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں تمہاری ہی نمازوں کی طرح پڑھتے تھے ۲؎لیکن عشاءکی نماز تمہاری نمازسے کچھ دیرمیں پڑھتے تھے۳؎اورنمازہلکی پڑھتے تھے۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ خودبھی صحابی ہیں،والدبھی صحابی،حضرت سعدابن ابی وقاص کے بھانجے ہیں،کوفہ میں قیام رہا، ۶۴ھیا ۶۶ھمیں وفات پائی۔
۲
؎یہ تابعین سے خطاب ہے،یہ حضرات آپ سے حضورکی نمازکے اوقات پوچھتے تھے تو آپ یہ جواب دیتے تھے کہ تم نمازیں صحیح وقت پر پڑھ رہے ہوحضوربھی ان ہی اوقات میں پڑھتے تھے۔
۳
؎خیال رہے کہ نماز عشاءکوعتمہ کہنا منع ہے۔یا توحضرت جابرکو اس ممانعت کا علم نہیں ہوایاوہ لوگ عشاءکا مطلب سمجھتے نہ تھے،عتمہ کہنے سے سمجھتے تھے،جیسے پنجاب کے دیہاتی عصرکو دیگر،اورعشاءکوخفتاںکہنے سے سمجھتے ہیں۔
۴
؎یعنی جب نمازپڑھاتے تو ہلکی کرتے اپنی اکیلی نماز بہت دراز پڑھتے تھے جیسےتہجد وغیرہ اوریہ بھی اکثری ہے،ورنہ کبھی حضورنے مغرب میں سورۂ اعراف پڑھی ہے مگرکتنی ہی درازپڑھتے صحابہ کوہلکی معلوم ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 617