Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3031

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتٰى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ: أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَهٗ إِخْوَةٌ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَيْسَ يَصْلُحُ هٰذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلٰى حَقٍّ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن جابر قال: قالت امرأة بشير: انحل ابني غلامك وأشهد لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن ابنة فلان سألتني أن أنحل ابنها غلامي وقالت: أشهد لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «أله إخوة؟» قال: نعم قال: «أفكلهم أعطيتهم مثل ما أعطيته؟» قال: لا قال: «فليس يصلح هذا وإني لا أشهد إلا على حق » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ بشیر کی بیوی نے کہا کہ میرے بیٹے کو اپنا غلام دو ۱؎اور رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو میرا گواہ بنالو ۲؎چنانچہ وہ رسول االلّٰہصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے کہ فلاں کی لڑکی نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے لڑکے کو اپنا غلام دے دوں اور کہا ہے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو میرا گواہ بنالو۳؎ارشاد ہوا کہ اس کے اور بھی بھائی ہیں بولے ہاں فرمایا کیا تم نے ان سب کو اس جیسا ہی عطیہ کیا ہے جو اسے دے رہے ہوعرض کیا نہیں فرمایا یہ درست نہیں ۴؎اور میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بشیر کی بیوی کا نام عمرہ بنت رواحہ ہے اور ان کے بیٹے کا نام جو عمرہ کے بطن سے تھا نعمان ہے جیساکہ ابھی کچھ پہلے گزرا،بشیر کے اور اولاد دوسری بیوی سے تھی۔
۲
؎تاکہ آئندہ کوئی جھگڑا نہ ہو،پہلے عرض کیا گیا کہ یہ حدیث آج کل کی مروجہ رجسٹری کی اصل ہے کہ اہم چیزوں کی بیع کی رجسٹری کرائی جاتی ہے۔
۳
؎معلوم ہواکہ ہر جگہ دو گواہوں کی ضرورت نہیں کبھی ایک گواہ بھی کافی ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ اَھۡلِھَا"زلیخا والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی۔
۴
؎یعنی ان بیوی صاحبہ کا یہ کہنا یا تمہارا صرف ایک بیٹے کو عطیہ دینا یا میرا اس عطیہ پر گواہ بننا بہتر نہیں۔غرضکہھذامیں چند احتمال ہیں اوریصلحبمعنی بہتر و مناسب ہے نہ کہ بمعنی جائز و درست جیساکہ پہلے عرض کیا جاچکا کہ والدین اپنی زندگی میں جس بچہ کو جو چاہیں دیں مگر برابر کرنا بہترہے۔
۵
؎یہ حق باطل کا مقابل نہیں بلکہ غیر مناسب کا مقابل ہے یعنی ہم اس پر گواہ بنتے ہیں جو غیر مناسب یا مکروہ بھی نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3031