Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3018

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه ليس لنا مثل السوء» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے ۱؎اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بناء پر امام شافعی و مالک و احمد فرماتے ہیں کہ ہبہ دی ہوئی چیز واپس لینا مطلقًا حرام ہے کیونکہ حضور انور نے اسے قے کھانے سے تشبیہ دی ہے،قے حرام چیز ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ جب تک سات مانع چیزوں میں سے کوئی چیز نہ پائی جائے تب تک ہبہ کی واپسی درست ہے اگرچہ بے مروتی اور بدخلقی ہے،امام صاحب کی دلیل وہ حدیث ہے"الواھب احقّ بھبتہٖ مالم یصب منہ"یعنی ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کا حقدار ہے جب تک کہ اس کا عوض نہ لے لےاور یہ حدیث تو حرمت رجوع پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ قے کتے پر حرام نہیں،یہ تشبیہ صرف نفرت دلانے کے لیے ہے۔بشیر نے اپنے بیٹے نعمان کو باغ ہبہ کیا حضور نے فرمایا واپس لے لو جیسا کہ آگے آرہا ہے،حضرت عبداللّٰهابن عمر نے کسی کو گھوڑا ہبہ دیا تھا پھر اس سے واپس خریدنا چاہا،حضور نے فرمایا مت خریدو،وہاں بھی یہی کتے والی مثال دی،حالانکہ اپنا ہبہ خریدنا سب کے ہاں جائز ہے،اگر یہ حدیث حرمت کی ہوتو ان احادیث کے مخالف ہوگی لہذا امام اعظم کا فرمان نہایت قوی ہے اور یہ حدیث نہ انکے خلاف ہے نہ دیگر آئمہ کی مؤید۔
۲
؎اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک تو وہ جو ترجمے سے ظاہر ہوئے کہ اگر اس سے بدتر کوئی مثال ہمارے پاس ہوتی تو ہم وہ پیش فرماتے مگر ہے نہیں کیونکہ کوئی جانور اپنی قے نہیں کھاتا۔اس صورت میںلناسے مراد خود اپنی ذات کریم ہے۔دوسرے یہ کہ بدترین مثال ہم لوگوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے یعنی کوشش کرو کہ یہ کہاوت ہم پر چسپاں نہ ہو۔اس صورت میںلَنَاسے مراد عام مسلمان ہیں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3018