Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3029

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قِيلَ: أَرَادَ بِالدُّهْنِ الطِّيبَ .

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ثلاث لا ترد الوسائد والدهن واللبن» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب قيل: أراد بالدهن الطيب .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تین چیزیں واپس نہ کی جائیں:تکیے،تیل اور دودھ ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے،کہا گیا ہے تیل سے مراد خوشبو ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر میزبان اپنے مہمانوں کو آرام کے لیے تکیہ پیش کرے اور سر میں ملنے کے لیے تیل،پینے کے لیے دودھ یا لسّی تو مہمان اسے رد نہ کرے بلکہ بخوشی قبول کرے،عرب شریف میں تیل بھی مہمان کی خاطر پیش ہوتا تھا جیسے بہار میں اب بھی تیل،عطر ، پان سے ہر آنے والے کی خاطر کی جاتی ہے۔
۲
؎یعنی خوشبو دار تیل مگر حق یہ ہے کہ ہر تیل مرادہے،خوشبودار ہو یا نہ ہو،حدیث کے مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3029