Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3021

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهٗ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتّٰى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهٖ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عمر وابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل للرجل أن يعطي عطية ثم يرجع فيها إلا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم عاد في قيئه » . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وصححه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے و ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کسی شخص کو یہ جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے پھر واپس لے لے ۱؎سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے ۲؎اور اس کی مثال جو عطیہ دے پھر واپس لے لے اس کتے کی سی ہے جوکھاتا رہے حتی کہ سیر ہوجائے تو قے کردے پھر اپنی قے دوبارہ کھائے ۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)اسے ترمذی نے صحیح کہا ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں جائز بمعنی مناسب ہے یعنی عطیہ دے کر واپس لینا مناسب نہیں جیسے کہ حدیث پاک میں ارشاد ہوا کہ مؤمن کے لیے یہ حلال نہیں کہ خود سیر ہو کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو،وہاں بھیلایحلہے بمعنی غیرمناسب لہذا یہ حدیث رجوع ہبہ کی احادیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎ولدمیں بیٹا بیٹی سب ہی شامل ہیں اس کی شرح ابھی گزرگئی کہ ہمارے ہاں باپ بھی بلا ضرورت رجوع نہیں کرسکتا،شوافع کے ہاں کرسکتا ہے لہذا بیٹی کو دیا ہوا جہیز واپس لے سکتا نہیں۔خیال رہے کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کو عطیہ دے کر واپس نہیں کرسکتے،یوں ہی اہلِ قرابت،عزیز۔ فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے"اذا کانت الھبۃ لذی رحم محرم لم یرجِع فیھا"حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اہل قرابت کا عطیہ لازم ہے دوسرے کا عطیہ لازم نہیں جب تک کہ وہ عوض نہ دیں۔(لمعات)
۳
؎یعنی کتے کا قے کرکے چاٹ لینا ہر طبیعت پر باعث نفرت ہے،یوں ہی عطیہ دے کر واپس لینا ہرشخص کو برا معلوم ہونا چاہیے۔خیال رہے کہ ہبہ کا حکم اور ہے صدقہ کا حکم کچھ اور،ہبہ تو بعض صورتوں میں واپس ہوسکتا ہے مگر دیا ہوا صدقہ و خیرات واپس نہیں لے سکتے کہ وہاں منشاء صدقہ رضاء الٰہی ہے جو بفضلہ تعالٰی حاصل ہوگئی،جب عوض مل گیا تو رجوع کیسا؟

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3021