Main Icon

باب : پچھلے باب کا تتمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3022

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً فَعَوَّضَهٗ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَ فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ فَلَانًا أَهْدٰى إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهٗ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن أبي هريرة: أن أعرابيا أهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم بكرة فعوضه منها ست بكرات فتسخط فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: «إن فلانا أهدى إلي ناقة فعوضته منها ست بكرات فظل ساخطا لقد هممت أن لا أقبل هدية إلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي أو دوسي» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک بدوی نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو جوان اونٹنی ہدیۃً پیش کی ۱؎تو حضور نے اس کے عوض چھ اونٹنیاں عطا فرمائیں پھر بھی وہ ناراض ہی رہا۲؎یہ خبر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو پہنچی تو آپ نےاللّٰهکی حمدوثناء کی ۳؎پھرفرمایا کہ فلاں شخص نے ہم کو ایک اونٹنی دی تھی ہم نے اسے اس کے بدلے چھ اونٹنیاں دیں پھر بھی وہ ناراض ہی رہا میں نے تو ارادہ کرلیا ہے کہ اب سواء قریش یا انصاری یا ثقفی یا دوسی کا ہدیہ قبول نہ کروں ۴؎(ترمذی،ابواؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎بکرکے لغوی معنی ہیں پہلی حالت اسی لیے کنواری لڑکی کو باکرہ،صبح کو بکرہ اور شروع پھل کو باکورہ کہتے ہیں،یہاں بکرہ سے مراد ہے نئی اونٹنی جو ابھی نوجوان ہو،حضرت صدیق اکبر کا نام ہے ابوبکر یعنی اولیت والے،آپ ہر صفت میں اول رہے لہذا ابوبکر ہوئے،ابو کا معنے والا جیسے ابوہریرہ بلی والا۔
۲
؎وہ حضور انور سے بہت کچھ امید وابستہ کرکے یہ اونٹنی لایا تھا اس لیے چھ گناہ ملنے پربھی راضی نہ ہوا یا تو زبان سے ناراضی ظاہر کی یا اس کے چہرے مہرے سے ناراضی کا ظہور ہوا یا اس کے خوش نہ ہونے سے ناراضی ظاہر ہوئی۔مؤمن کو چاہیے کہ چیز لے کر خوش ہو کہ یہ خوشی دینے والے کو بھی خوش کردیتی ہے جس سے وہ اور زیادہ دیتا ہے۔رب کی نعمتوں پر بھی خوب خوش ہوا کرے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوۡا
۳
؎یعنی بطور وعظ یہ کلام فرمایا اور وعظ کے اول خطبہ میں رب کی حمدوثناء سنت ہے۔
۴
؎کیونکہ یہ چار قبیلہ والے حضرات کریم النفس ہوتے ہیں وہ اپنے ہدایا و عطیوں کا عوض چاہتے ہی نہیں اور تھوڑے عوض پرراضی ہوجاتے ہیں۔خیال رہے کہ عوض یا زیادہ عوض کے لیے ہدیہ دینا ہم لوگوں کو بہتر نہیں،حضور انور کو یہ حرام تھا کہ حضور تو دینے ہی کے لیے دنیا میں تشریف لائے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لَا تَمْنُنۡ تَسْتَکْثِرُ"زیادہ وصول کرنے کے لیے کسی کو عطیے نہ دو۔ اس میں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے خطاب ہے اور نہی تحریم کی ہے۔بڑا آدمی جب چھوٹوں کو کچھ دے وہ عطیہ،انعام،اکرام ہے اور جو برابر والا اپنے برابر والے کو دے تو وہ ہدیہ، سوغات ہے اور جب چھوٹا اپنے بڑے کو کچھ دے تو وہ نذرانہ ہے،بڑے کو چاہیے کہ چھوٹوں کو نذرانہ کا عوض ضرور دیا کریں کہ وہ اسی لالچ سے تو لاتے ہیں،دیکھو حضور انور ایک کے چھ عطا فرماتے تھے۔شادی بیاہ یا عید بقر عید پر نوابوں کے نوکر چاکر نذرانہ پیش کرتے ہیں،کیوں ؟کچھ لینے کے لیے انہیں ضرور دیا جائے۔(مرقات)مروجہ نیوتے (نذرانے)جائز ہیں،جب کہ ان سے لڑائی جھگڑے فساد نہ ہوں۔نیوتے کا مسئلہ شامیباب الہبۃمیں ملاحظہ فرمائیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3022