Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1520

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبْصَرْنَا شَيْئًا مِنَ السَّمَاءِ تَعْنِي السَّحَابَ تَرَكَ عَمَلَهٗ وَاسْتَقْبَلَهٗ وَقَالَ: “اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ” فَإِنْ كَشَفَهٗ حَمِدَ الله وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ سَقْيًا نَافِعًا”. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالشَّافِعِيّ وَاللَّفْظ لَهٗ

وعن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أبصرنا شيئا من السماء تعني السحاب ترك عمله واستقبله وقال: “اللهم إني أعوذ بك من شر ما فيه” فإن كشفه حمد الله وإن مطرت قال: “اللهم سقيا نافعا”. رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه والشافعي واللفظ له

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب آسمان پرکوئی شےیعنی بادل نمودار دیکھتے تو اپنے کام کاج چھوڑ دیتے اور ادھرمتوجہ ہوجاتے ۱∞؎اورکہتے الٰہی جو کچھ اس میں ہے اس کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگرکھل جاتا تو الله کا شکر کرتے اور اگر بارش ہوتی تو کہتے الٰہی اسے نفع بخش بارش بنا ۲؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،شافعی)لفظ شافعی کے ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی غیرضروری کام چھوڑ دیتے جیسےکھانا پینا،کسی سےبات چیت۔یہ مطلب نہیں کہ نماز وغیرہ عبادات چھوڑ دیتے۔اس سےمعلوم ہوا کہ دعا کے وقت تمام الجھنوں سے دل کا فارغ ہونا بہت مفیدہے اگرچہ مشغولیت میں بھی دعائیں اچھی ہیں۔۲؎یعنی اگر بغیر بارش ہوئے بادل پھٹ کر غائب ہوجاتا تو بارش نہ ہونے پرنہیں بلکہ مصیبت نہ آنے پر شکر کرتے اور اگر برسنے لگتا تو یہ دعا فرماتے۔اب بھی یہ دعائیں یادکرنی چاہئیں اور ان موقعوں پر پڑھنی چاہئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1520