Main Icon

باب : ہواؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1512

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا حَتّٰى أَرٰى مِنْهُ لَهَوَاتِهٖ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ فَكَانَ إِذَا رَأٰى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضاحكا حتى أرى منه لهواته إنما كان يتبسم فكان إذا رأى غيما أو ريحا عرف في وجهه (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو اس طرح ہنستا نہ دیکھا کہ آپ کے جبڑے شریف دیکھ لیتی ۱∞؎آپ صرف مسکرایا کرتے تھے آپ جب بادل یا ہوا دیکھتے تو آپ کے چہرے میں اثر خوف معلوم ہوتا۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎لَھْوَات لُھَاتکی جمع ہے۔لہات زبان کی جڑ کوبھی کہتے ہیں،حلق میں ابھرے ہوئے گوشت کوبھی،جبڑے کے آخری کنارے کوبھی،یعنی آپ ایسا کبھی نہ ہنسے جس سے آپ کا منہ مبارک کھل جاتا۔۲؎یعنی بادل یا تیز ہوا ہونے پرحضورصلی الله علیہ وسلم کے چہرۂ انور پرخوف کے آثار ظاہرہوتے کہ ایسا نہ ہوکہ آندھی یا بارش سے لوگوں کو نقصان پہنچے جس قدر رب تعالٰی سے قرب زیادہ اسی قدر خوف زیادہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1512