Main Icon

باب: فخر اور تعصب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4900

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللهِ بْنِ الشِّخِّيْرِ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: أَنْتَ سَيِّدُنَا. فَقَالَ: السَّيِّدُ اللّٰهُ فَقُلْنَا وَأَفْضَلُنَا فَضْلًا وَأَعْظَمُنَا طَوْلًا. فَقَالَ: قُولُوا قَوْلَكُمْ أَوْ بَعْضَ قَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن مطرف بن عبدالله بن الشخير قال: انطلقت في وفد بني عامر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا: أنت سيدنا. فقال: السيد الله فقلنا وأفضلنا فضلا وأعظمنا طولا. فقال: قولوا قولكم أو بعض قولكم ولا يستجرينكم الشيطان . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مطرف بن عبدالله بن شخیر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں بنی عامر کے وفد میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۲؎تو ہم نے کہا کہ آپ ہمارے سید ہیں فرمایا سید تو الله ہے ۳؎ہم نے عرض کیا کہ آپ ہم سب میں بڑی بزرگی والے اور بڑے عطا والے ہیں ۴؎تو فرمایا کہ اپنی یہ بات یا بعض بات کہو اور تم کو شیطان بے باک نہ کردے ۵؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎مطرف تابعی بصری ہیں،بڑے متقی پرہیزگار تھے، ۸۷؁∞ ستاسی میں آپ کی وفات ہوئی،آپ کے والد عبدالله ابن شخیر صحابی ہیں۔
۲
؎وفدوہ جماعت کہلاتی تھی جو اپنی ساری قوم کی طرف سے نمائندہ بن کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوتی تھی اور ایمان قبول کرتی اس کا ایمان ساری قوم کا ایمان ہوتا،حضرت مطرف قبیلہ بنی عامر کے وفد میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔
۳
؎سیدبہت معنی میں آتا ہے: سردار،مالک،مولٰی،خاوند،قرآن کریم فرماتاہے:"وَاَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ"وہاںسیدبمعنی خاوند ہے ان لوگوں نے حضور انور کوسیدبمعنی سردار کہا تھا حضور صلی الله علیہ وسلم نے رب تعالٰی کو سید بمعنی مالک و خالق فرمایا یہ خصوصی ارشاد ہے لہذا ہم لوگ الله تعالٰی کو عمومًا سید نہیں کہہ سکتے۔خیال رہے کہ ان حضرات نے حضور انور کو سید کہا لفظ سید ہر سردار پیشوا کو کہا جاتا ہے انہیں چاہیے تھا کہ حضور کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نبی الله کہتے یہ خطاب کسی سردار کے لیے نہیں ہوتا اس لیے انہیں نہایت اخلاق کے ساتھ اس سے روک دیا گیا یہ ممانعت اس عارضہ کی وجہ سے ہے لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور کو سید المرسلین وغیرہ نہ کہاجاوے۔نہ یہ حدیث اس حدیث کے خلاف ہے کہ انا سید ولدادم(ازاشعۃ اللمعات)لہذا خدا تعالٰی کو سید کہنا ہمارے لیے ہر گز جائز نہیں حضور صلی الله علیہ وسلم کو سید المرسلین وغیرہ کہنا جائز ہے۔
۴
؎طولکے بہت معنی ہیں: دوستوں پر عطا،دشمنوں پر غالب،سنت و عبادت میں زیادتی یہاں بمعنی عطا و غلبہ ہے۔(مرقات و اشعہ)یعنی آپ تمام مخلوق میں زیادہ جواد اور سخی ہیں کفار پر غالب۔
۵
؎لایستجرمنکممیں بہت احتمال ہیں قوی یہ ہے کہ یہ بنا ہےجرأتسے بمعنی دلیری اور بے باکی۔ استجار کے معنی ہیں دلیر بیباک کردینا یعنی شیطان تم کو میری تعریف میں دلیر نہ کردے کہ تم میری وہ تعریف کرو جو کفر یا شرک ہے جیسے تم مجھے خدا کا بیٹا یا خدا کہنے لگ جاؤ،میری تعریف عبدیت کے دائرے میں کرنا لہذا اس حدیث کے معنی یہ نہیں کہ میرے فضائل ہی بیان نہ کرو حضور کی نعت گوئی ثناء خوانی حضرات صحابہ کرتے تھے حضور سنتے تھے خوش ہوتے تھے ان نعتیہ قصیدوں میں حضور کی ایسی تعریفیں ہوتی تھیں کہسبحان الله!اس جملہ کی یہ ہی شرح مرقات و اشعہ نے کی ہے لہذا اس حدیث سے کوئی دھوکہ نہ کھائے، دن رات حضور کی نعت پڑھے حمد باری سنت رسول الله سنیت الہیہ ہے،رب تعالٰی نے قرآن مجید میں حضور کی بہت نعت فرمائی ہے۔اعلٰی حضرت نے فرمایا؎حی و باقی جس کی کرتا ہے ثنا مرتے دم تک اسکی مدحت کیجئے
جس کا حسن الله کو بھی بھاگیا اس پیارے سے محبت کیجئے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4900