Main Icon

باب: فخر اور تعصب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4910

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْسَابُكُمْ هٰذِهٖ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلٰى أَحَدٍ كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ بِالصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤُوْهٗ لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلٰى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ وَتَقْوًى كَفٰى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا فَاحِشًا بَخِيلًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنسابكم هذه ليست بمسبة على أحد كلكم بنو آدم طف الصاع بالصاع لم تملؤوه ليس لأحد على أحد فضل إلا بدين وتقوى كفى بالرجل أن يكون بذيا فاحشا بخيلا . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے یہ نسب کسی پر گالی کا سبب نہیں ہیں ۱∞؎تم سب آدم کی اولاد ہو جیسے صاع کی چیز صاع سے ہے جسے اس نے بھرا نہ ہو ۲؎کسی کو کسی پر بزرگی نہیں مگر دین اور تقویٰ سے انسان کے لیے یہ شرم و عار کافی ہے کہ وہ بد زبان فحش گو کنجوس ہو۳؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کوئی شخص کسی کو نسب کی گالی نہ دے نسب گالی و عار نہیں جیسے کہا جاتا ہے او جولائے،او نائی وغیرہ یہ حرام ہے نسب کو گالی نہ بناؤ یہ مرض بھی مسلمانوں میں بہت ہے۔
۲
؎طفط کے فتحہ سے ف کے شد سے بمعنی کم ہونا کم کرنا اسی سے ہےتطفیفبمعنی کم تولنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ"۔اصطلاح میںطفوہ چیز ہے جو صاع وغیرہ پیمانہ میں بھری جاوے مگر اسے پُر نہ کرے کچھ خالی رہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر انسان پور ا کامل انسان نہیں اس میں کچھ کمی و نقصان ضرور ہے جیسے صاع پیمانہ کا طف کہ اس میں کمی ہوتی ہے۔
۳
؎یعنی یہ خصلتیں شرم و عار کی چیزیں ہیں نہ کہ محض نسب لہذا ان عیوب سے بچنے کی کوشش کرو نسب پر طعن کیسا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4910