Main Icon

باب: فخر اور تعصب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4909

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَنْ اِمْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ؟ قَالَ: لَا وَلٰكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهٗ عَلَى الظُّلْمِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ

عن عبادة بن كثير الشامي من أهل فلسطين عن امرأة منهم يقال لها فسيلة أنها قالت: سمعت أبي يقول: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله أمن العصبية أن يحب الرجل قومه؟ قال: لا ولكن من العصبية أن ينصر الرجل قومه على الظلم . رواه أحمد وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن کثیر شامی سے ۱∞؎جو فلسطین والوں سے ہیں وہ ان کی ایک عورت سے راوی جسے فسیلہ کہا جاتا ہے۲؎انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے فرماتے سنا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا میں نے عرض کیا یارسول الله کیا یہ بھی تعصب سے ہے کہ کوئی شخص اپنی قوم سے محبت رکھے۳؎فرمایا نہیں لیکن تعصب سے یہ ہے کہ کوئی شخص ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے ۴؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎حاشیہ اشعۃ اللمعات میں ہے کہ ان کا نام عباد ابن کثیر شامی ہے عبادہ نام نہیں ہے۔والله اعلم!فلسطین مشہور ملک ہے جس میں بیت المقدس واقع ہے یہ علاقہ شام اور اردن سے ملا ہوا ہے اور فلسطین عراق کے ایک شہر کا نام بھی ہے ان راوی کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔
۲
؎فسیلہف کے پیش اور سین کے فتح سے،اس کے لغوی معنی ہیں کجھور کا چھوٹا درخت یہ بی بی تابعیہ ہیں، ان کا نام جمیلہ بنت واثلہ ابن اسقع ہے ،حضرت واثلہ صحابی ہیں (تقریب حاشیہ اشعہ)فسیلہ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔
۳
؎یعنی فسیلہ کے والد حضرت واثلہ ابن اسقع نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اپنی قوم سے محبت کرنا گناہ ہے یہ بھی تعصب کی ایک قسم ہے۔
۴
؎یعنی اپنی قوم کی ناحق بات کو حق کہنا اگر وہ دوسری قوم کے آدمی پرظلم کرے تو اس ظالم کی حمایت کرنا صرف اس لیے کہ وہ اپنی قوم کا آدمی ہے یہ ہے تعصب یہ ہی حرام ہے یہ بیماری آج مسلمانوں میں بہت ہی ہے قومی تعصب،صوبائی تعصب بہت ہے اس لیے اس نے مسلمان قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،سارے مسلمان ایک قوم ہیں خواہ کسی نسب کے ہوں یا کسی ملک کے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4909