Main Icon

باب: فخر اور تعصب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4906

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: خَيْرُ كُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهٖ مَا لَمْ يَأْثَمْ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن سراقة بن مالك بن جعشم قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: خير كم المدافع عن عشيرته ما لم يأثم . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعشم سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا کہ تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے کنبہ سے دفاع کرے جب تک کہ گناہ نہ کرے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ وہی سراقہ ہیں رضی الله عنہ جو ہجرت کے موقعہ پر حضور صلی الله علیہ وسلم کی تلاش میں گئے تھے،انہیں کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا تھا،یہ کنانی ہیں،بڑے شاعر تھے،دل سے تو وہاں ہی ایمان لے آئے تھے مگر اپنا ایمان فتح مکہ کے دن ظاہر کیا اس لیے آپ کو فتح کے دن کا مؤمن کہا جاتا ہے،مقام قدید میں رہتے تھے،پھر مدنی بن گئے تھے، ۲۴؁∞ چوبیس میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی اپنی قوم کو ظالموں سے بچانے والا،ان سے لوگوں کے ناجائز طعنے دفع کرنے والا،انکی مدد کرنے والا نہ متعصب ہے نہ گنہگار بلکہ ثواب کا مستحق ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ"ہاں گناہ پر ان کی مددکرنے والا گنہگاربھی ہے متعصب بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4906