Main Icon

باب: فخر اور تعصب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4897

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهٗ فَقُولُوا: عبدُ اللهِ وَرَسُوْلُه ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تطروني كما أطرت النصارى ابن مريم فإنما أنا عبده فقولوا: عبد الله ورسوله ".(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم مجھے ایسا نہ بڑھاؤ جیسا عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو بڑھایا ۱∞؎میں اس کا بندہ ہی ہوں تو کہو الله کے بندے الله کے رسول ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎لا تطروبنا ہےاطراءسے بمعنی مبالغہ کرنا،جھوٹی تعریف کرنا،حد سے بڑھانا یعنی مجھے خدا یا خدا کا بیٹا یا خدا تعالٰی کا رشتہ دار عزیز نہ کہو کہ یہ چیزیں ہم جنسوں میں ہوتی ہیں رب تعالٰی جنس سے پاک ہے،یہاں خاص مبالغہ کی ممانعت ہے یعنی جس قسم کا مبالغہ عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا تم میرے بارے میں وہ نہ کرو۔
۲
؎اس کے معنی یہ نہیں کہ تم مجھےعبدالله و رسولہکے سوا اور کچھ نہ کہو نہ شفیع المذنبین کہو نہ رحمۃ اللعالمین کہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ میری وہ صفات بیان کرو جو عبدیت کے ماتحت ہوں الوہیت والی صفات مت بیان کرو لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیںانا سید ولد ادمیا جیسےانا خطبھم اذا صمتوایہ حدیث قرآن کریم کی آیات نعت کے خلاف ہے،رب فرماتاہے:"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰهِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا"۔ حق یہ ہے کہ سواء ابن الله وغیرہ کے جو تعریف کرسکتے ہو کرو امام بوصیری فرماتے ہیں۔دع ما ادعتہ النصاری فی نبیھم
واحکم بماشئت من شرف ومن عظم
فان فضل رسول الله لیس لہ حد
فیعرب عنہ ناطق بفم
نبی کریم کو ابن اللہ وغیرہ نہ کہو باقی جو کہہ سکتے ہو کہو کہ ہمارے الفاظ محدود ہیں حضور انور کے صفات غیر محدود ، ساری دنیا ساری عمر حضور کے صفات بیان کرے سمندر کا قطرہ بیان نہیں ہوسکتا کہ غیر محدود کو محدود کیسے بیان کرے،ہمارے الفاظ محدود ہیں ۲۸ حرفوں میں حضور کی صفات لامحدود ہیں۔سبحا ن الله!فیصلہ کردیا ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4897