Main Icon

باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2979

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهٗ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهٗ نَفَقَتُهٗ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء وله نفقته » . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں ۱؎کہ جو کسی کی زمین بغیر اس کی اجازت سے کھیتی کرے تو اسے کھیت سے کچھ نہ ملے گا ہاں ا سے خرچ مل جائے گا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)اورترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ مالک زمین کو یا تو خبر ہی نہ ہو اور یہ وہاں تخم بودے یا مالک منع کرتا رہے اور یہ بیج ڈال دے،بغیر اذنان دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
۲
؎خرچ سے مراد تخم کی قیمت،پانی اور اس کی اپنی محنت کا کرایہ ہے،حضرت امام احمد کا یہی مذہب ہے کہ ایسی صورت میں پیداوار زمین والے کی ہے اور تخم پانی حق خدمت کاشتکار کو دلوادیا جائے،باقی اماموں کے ہاں پیداوار تخم والے کی ہے اور زمین والے کو اتنے عرصہ کا کرایہ زمین دلوایا جائے گا یا اگر اس کاشت سے زمین ناقص ہوگئی تو نقصان دلایا جائے گا کیونکہ پیداوار تخم کا نتیجہ ہے زمین تو اس کا ظرف ہے،یہ حدیث چونکہ صحیح نہیں اس لیے ان بزرگوں نے اس پر عمل نہ فرمایا۔(مرقات مع زیادۃ)
۳
؎اور شرح سنہ میں فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے،احمد نے فرمایا کہبغیر اذنہمحدیث میں نہیں ہے،ابو اسحاق نے یہ زیادت اپنی طرف سے کی ابواسحاق،رافع ابن خدیج سے راوی ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2979