Main Icon

باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2977

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهٗ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبٰى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كانت له أرض فليزرعها أو ليمنحها أخاه فإن أبى فليمسك أرضه»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اسے خود بوئے یا کسی اپنے بھائی کو عاریۃً دے دے اگر نہ مانے تو اپنی زمین روک رکھے ا؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ امر اخلاقی ہے یعنی تقاضائے اخلاق یہ ہے کہ یا تو اپنے مال سے خود نفع اٹھائے یا دوسروں کو نفع پہنچائے،اگر یہ دونوں کام نہیں کرتا تو وہ جانے سنبھال رکھے اپنی زمین،یہ زمین غیر نافع ہے اور ممکن ہے کہ انکار کرنے والا دوسرا شخص ہو یعنی اگر دوسرا آدمی اس عاریت کو قبول نہ کرے تو اپنی زمین محفوظ رکھے کچھ روز کاشت نہ کرنے سے زمین کی طاقت بڑھتی ہے،یہ روکنا بھی اسے مفید ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2977