Main Icon

باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2973

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنهُ قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرٰى بِذٰلِكَ بَأْسًا حَتّٰى زَعَمَ رَافِعُ ابْن خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْهَا فَتَرَكْنَاهَا مِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: كنا نخابر ولا نرى بذلك بأسا حتى زعم رافع ابن خديج أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنها فتركناها من أجل ذلك. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ہم کھیتی باڑی کراتے تھے اوراس میں کچھ حرج نہ جانتے تھے ۱؎حتی کہ رافع ابن خدیج نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا تب اس وجہ سے ہم نے یہ کام چھوڑ دیا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مخابرہ کے وہی معنی ہیں جو ابھی عرض کیے گئے کہ زمین ایک کی ہو محنت دوسرے کی پیداوار مشترک۔
۲
؎یہ حدیث ظاہری معنے سے امام اعظم کی دلیل ہے کہ کھیتی باڑی کسی اور سے کرانا مطلقًا ممنوع ہے۔صاحبین فرماتے ہیں کہ اس سے خاص صورت مراد ہے جیساکہ ابھی عرض کیا گیا اس کی دلیل اگلی حدیث ہے بہرحال فتویٰ قول صاحبین پر ہی ہے اور آج عمل بھی اس ہی پر ہے۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2973