Main Icon

باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2975

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهٗ فَيَقُولُ: هٰذِهِ القِطْعَةُ لِي وَهٰذِهٖ لَكَ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهْ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهْ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن رافع بن خديج قال: كنا أكثر أهل المدينة حقلا وكان أحدنا يكري أرضه فيقول: هذه القطعة لي وهذه لك فربما أخرجت ذه ولم تخرج ذه فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ والے زیادہ زمیندار تھے ۱؎اور ہم میں سے بعض اپنی زمین کرایہ پردیتے تھے وہ کہتا تھا یہ ٹکڑا میرا ہے اور یہ تمہارا ہے ۲؎تو بہت دفعہ اس ٹکڑا میں پیداوار ہوتی تھی اور اس میں نہ ہوتی تھی۳؎اس لیے ان کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منع فرمادیا۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی زمینوں کے مالک،پنجاب میں کاشتکار کو زمیندار کہتے ہیں وہ معنے یہاں نہیں۔عربی میںحقلزمین کو کہتے ہیں اور محاقلہ بالی میں دانہ کی بیع دوسرے کھلے دانہ کے عوض۔
۲
؎یعنی اے مزارع اس میں جو پیداوار ہوگی وہ بحق مالکانہ میری ہے اور اس ٹکڑے میں جو پیداوار ہوگی وہ بحق خدمت تیری،دونوں جگہ دکھا کر معین کردیتے تھے۔
۳
؎اس لیے کبھی زمین کا مالک محروم ہوجاتا تھا اور کبھی مزارع محروم،پھر جھگڑے فساد ہوتے تھے کہ محروم دوسرے کے حصے سے لینا چاہتا تھا وہ دیتا نہ تھا جیساکہ ہارا ہوا جواری جیتے ہوئے سے لڑپڑتاہے جس سے مار پٹائی بلکہ کبھی قتل وخون ہوجاتاہے۔
۴
؎اور جھگڑے فساد کی جڑ کاٹ دی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2975