Main Icon

باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2974

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خديج قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمَّايَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلٰى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الأَرْبَعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ وَكَأَنَّ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذٰلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن حنظلة بن قيس عن رافع بن خديج قال: أخبرني عماي أنهم كانوا يكرون الأرض على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بما ينبت على الأربعاء أو شيء يستثنيه صاحب الأرض فنهانا النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقلت لرافع: فكيف هي بالدراهم والدنانير؟ فقال: ليس بها بأس وكأن الذي نهي عن ذلك ما لو نظر فيه ذوو الفهم بالحلال والحرام لم يجيزوه لما فيه من المخاطرة (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حنظلہ ابن قیس سے وہ حضرت رافع ابن خدیج سے ۱؎راوی فرماتے ہیں مجھے میرے چچا نے خبر دی کہ صحابہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دیتے تھے ۲؎اس کے عوض جو نالیوں پر اُگ جائے یا اس چیز پر جسے زمین والا بیان کردیتا تھا۳؎ہم کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمادیا ۴؎میں نے حضرت رافع سے کہا کہ درہم و دینار کے عوض کیا ہے فرمایا اس میں حرج نہیں ۵؎اور جس سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے منع فرمادیا وہ تو ایسی صاف چیز ہے ۶؎کہ اگر حلال و حرام کی سمجھ رکھے اس میں غور کرے تو اسے جائز نہ رکھے کیونکہ اس میں جوا سا ہے ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حنظلہ ابن قیس زرقی انصاری ہیں،ثقہ تابعین سے ہیں،مدینہ پاک کے رہنے والے اور رافع ابن خدیج صحابی ہیں،آپ کے حالات جلد اول میں بیان ہوچکے۔
۲
؎انہمکا مرجع یا صحابہ ہیں یا ناس یا حضرت رافع ابن خدیج کے وہ تمام چچا جو زمین کے مالک تھے۔
۳
؎مشکوٰۃ شریف کے بعض نسخوں میںیستبینہہےبیانسےمشتق اور بعض نسخوں میںیستثنیہہے استثناء کا مضارع،ہمارا ترجمہ پہلی روایت پر ہے۔مطلب یہ ہے کہ زمین والا کرایہ دار کو جگہ دکھایا بتا دیتا تھا کہ اس کی پیداوار تیری ہوگی،باقی ساری زمین کی پیداوار میری۔
۴
؎یہ حدیث پہلی حدیث کی شرح ہے کہ حضور انور نے مطلقًا زمین کرایہ پر دینے سے منع نہ فرمایا بلکہ اس نوعیت کے کرایہ سے منع فرمایا کہ زمین کا کرایہ حصہ کی پیداوار سے ادا کیا جائے۔
۵
؎کیونکہ اس میں کسی کو کوئی دھوکہ نہیں۔اس کرایہ کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ زمین والا مزارع کو حق خدمت روپیہ سے ادا کرے۔دوسرے یہ کہ مزارع پیداوار ساری خود لے لے اور مالک کو نقد روپیہ دے،دونوں صورتیں جائز ہیں ان پر آج کل بھی عمل ہے۔
۶
؎غالبًا یہ کلام حضرت رافع ابن خدیج کا ہے یا کسی اور کا۔
۷
؎مخاطرہ خطرسے بنا بمعنی دھوکا یا ہلاکت یا اندیشہ،جوئے کو مخاطرہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہاں فریقین کو دھوکا ہوتا ہے کہ ہر ایک اندیشہ و فکر کرتا ہے کہ نہ معلوم میں ہاروں یا جیتوں،ایسے ہی یہاں ہے کہ زمین والے کو بھی اندیشہ ہے کہ شاید میرے حصہ کی زمین میں پیداوار بالکل نہ ہو یا بہت کم ہو،ایسے ہی مزارع کو دھوکا ہے وہ اندیشہ کرتا ہے کہ نہ معلوم کہ میرے حصہ کی زمین میں پیداوار ہو کہ نہیں اور ہو تو کتنی ہو اس لیے اس سے منع فرمادیا گیا اور اگر مطلقًا پیداوار کے مقرر حصے پر زمین دی کہ کل پیداوار کا آدھا یا تہائی تیرا باقی میرا تو بالکل جائز ہے کہ اس میں نہ کسی کو اندیشہ ہے نہ دھوکا،نقصان ہوا تو دونوں کا،نفع ہوا تو دونوں کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2974