Main Icon

باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2976

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرٍو قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُوسٍ: لَوْ تَركْتَ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْهُ قَالَ: أَيْ عَمْرٌو إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُعِينُهُمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ وَلٰكِنْ قَالَ: «أَنْ يَّمْنَحْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهٗ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمرو قال: قلت لطاووس: لو تركت المخابرة فإنهم يزعمون أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنه قال: أي عمرو إني أعطيهم وأعينهم وإن أعلمهم أخبرني يعني ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم لم ينه عنه ولكن قال: «أن يمنح أحدكم أخاه خير له من أن يأخذ عليه خرجا معلوما»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے طاؤس سے کہا ۲؎کاش آپ کھیتی کرانا چھوڑ دیتے کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا ہے۳؎وہ بولے اے عمرو میں انہیں زمین دیتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں ۴؎اور صحابہ کے بڑے عالم نے مجھے خبر دی ہے یعنی حضرت ابن عباس نے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع نہ فرمایا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کسی کا اپنے بھائی کو عاریۃً زمین دے دینا کچھ مقرر اجرت لینے سے بہتر ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں عمرو سے مراد عمرو ابن دینار ہیں جن کی کنیت ابویحیی ہے،تابعین میں سے نہایت متقی ثقہ ہیں،عمرو ابن واقد دمشقی یا عمرو ابن میمون اودی یا عمرو ابن تشرید ثقفی مراد نہیں۔(لمعات و مرقات)
۲
؎طاؤس ابن کیسان آئمہ دین علمائے تابعین بہتر صالحین سے ہیں،چالیس حج کیے،مقبول الدعاء تھے،حضرت عبداللّٰهابن عباس کے خاص صحبت یافتہ۔عمرو ابن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے طاؤس جیسا عالم،عامل نہ دیکھا،آپ نے مکہ معظمہ میں ۱۰۵ھ؁∞ میں وفات پائی،آپ سے امام زہری اور کئی ایک خلفاء نے روایات لیں ہیں۔
۳
؎کھیتی کرانے کے متعلق صحابہ کا اختلاف رہا،بعض حضرات مطلقًا ناجائز سمجھتے تھے،انہیں یا تو مفصل حدیث نہ پہنچی تھی یا وہ حدیث کا مطلب نہ سمجھے تھے اس لیے عمرو ابن دینار نےیزعمونفرمایا۔
۴
؎یعنی یہ کام ناجائز نہیں اور اس میں غریبوں کی مدد ہوجاتی ہے کہ وہ لوگ اس زمین میں کام کاج کرکے پیٹ پال لیتے ہیں غرضکہ یہ کام جائز بھی ہے نافع بھی۔
۵
؎خلاصہ یہ ہے کہ وہ ممانعت تحریم یا کراہت کی نہیں ہے بلکہ خلاف اولٰی کے لیے ہے یعنی غریب بھائی کو عاریۃً زمین دے دینا اس سے بہتر ہے کہ اس سے کچھ کرایہ لیا جائے کہ کبھی زمین میں کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا اور کرایہ اس پر بلاوجہ پڑ جاتا ہے۔خیال رہے کہ رافع ابن خدیج کو یہ احادیث مختلف ذرائع سے پہنچیں،بعض احادیث انہوں نے براہ راست حضور سے سنیں،بعض احادیث اپنے چچاؤں کی معرفت پہنچیں اس لیے وہ کبھی تو فرماتے ہیں میں نے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سنا اور کبھی فرماتے ہیں مجھ سے میرے بعض چچاؤں نے کہا انہوں نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا لہذا حدیث میں اضطراب نہیں بلکہ روایات میں اختلاف ہے لہذا یہ حدیث مضطرب اصطلاحی نہیں اس لیے مسلم،بخاری نے ان احادیث کی تخریج فرمائی ورنہ اصطلاحی اضطراب حدیث کو ضعیف کردیتا ہے۔اور کرایہ زمین کی ممانعت کی بہت وجوہ احادیث میں وارد ہیں،بعض میں ہے کہ کرایہ نہ لینا اپنے بھائی مسلمان کو یوں ہی عاریۃً دے دینا افضل ہے،بعض میں ہے کہ کاشت وغیرہ کی وجہ سے جہاد سے باز نہ رہو،بعض میں ہے کہ جب اسی کرایہ کی بناء پر جھگڑے بڑھ گئے تو حضور انور نے اس سے منع فرمادیا،بعض میں ہے کہ زمیندار کاشتکار کے لیے زمین کے حصے مقرر کردیتا کہ اس کی پیداوار تیری اتنے کی میری اس سے منع فرمایا۔غرضکہ بعض صورتوں میں مزارعت جائز ہے،بعض میں مکروہ،بعض صورتوں میں بالکل ممنوع،تمام احادیث درست ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2976