Main Icon

باب: اختیار کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2803

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ: " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم إني أخدع في البيوع فقال: " إذا بايعت فقل: لا خلابة" فكان الرجل يقوله (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں خریدو فروخت میں دھوکا کھا جاتا ہوں فرمایا جب خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو دھوکا نہ ہو ۱؎چنانچہ وہ صاحب یہ کہہ دیا کرتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دھوکا کھا جانے والے حضرت حبان ابن منقد ابن عمرو مازنی ہیں،غالبًا یہود و منافقین انہیں دھوکا دے کر چیز فروخت کردیتے ہوں گے،صحابہ کرام سے دھوکا دینا ممکن نہیں،خلابہخ کے کسرہ سے بمعنی غبن و دھوکا ہے۔
۲
؎اس جملہ کے بہت سے معانی کئے گئے ہیں اور ہر معنی کی بنا پر فقہاء کے مذاہب ہیں،ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کہہ دیا کرو کہ بھائی میں تجارتی کاروبار میں سادہ بندہ ہوں مجھ سے قیمت زیادہ نہ وصول کرلینا میں اپنے لیے اختیار رکھتا ہوں کسی کو دکھاؤنگا اگر قیمت زیادہ لگائی گئی تو مجھے خیار شرط ہے واپس کردوں گا۔چنانچہ بعض روایات میں یوں ہے"لا خلاتہ ولی الخیار ثلثۃ ایام" یعنی دھوکا نہ ہو اور مجھے تین دن تک اختیار ہے اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے۔خیال رہے کہ اگر خریدار غلطی سے چیز مہنگی خرید لے تو اسے واپس کرنے کا حق نہیں اور نہ اس سے بیع فاسد ہوگی ہاں اگر ردّی مال خریدلے تو اسے خیار عیب ملے گا۔بعض آئمہ کے ہاں زیادہ قیمت لگالینے پر بیع فاسد ہوجاتی ہے،بعض کے ہاں خریدار کو واپسی کا حق ہوتا ہے وہ اس جملہ کے اور معنی کرتے ہیں مگر مذہب حنفی نہایت قوی ہے اور یہ ہی معنی جو فقیر نے عرض کئے قوی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2803