Main Icon

باب: اختیار کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2802

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوِرَكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن حكيم بن حزام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «البيعان بالخيار ما لم يتفرقا فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ تاجرو خریدار مختار ہیں جب تک الگ نہ ہوں اگر سچ بولیں اور اصل بات ظاہر کردیں تو انہیں اس تجارت میں برکت ہوگی اور اگر جھوٹ بولیں اور چھپائیں تو ان کی تجارت کی برکت مٹادی جائے گی۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت خدیجہ کبریٰ کے بھتیجے ہیں،واقعہ فیل سے تیرہ سال پہلے خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے،ایک سو بیس سال کی عمر ہوئی،ساٹھ سال کفر میں گزارے،ساٹھ سال اسلام میں،زمانہ جاہلیت میں بڑے سخی تھے کہ آپ نے سو غلام آزاد کئے اور سو آدمیوں کو سواری دے کر حج کرائے اور جب خود حج کیا تو سو اونٹ قربانی کئے اور عرفہ میں سو سے زیادہ غلام آزاد کیے،بدر میں کفار کے ساتھ تھے،مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوئے پھر آزاد کئے گئے،فتح مکہ میں ایمان لائے ۵۸ ھ؁∞ میں مقام زینت میں انتقال کیا۔(اشعہ)
۲
؎یعنی نہ تو فروشند ہ چیز کے عیب چھپا کر خریدار کو دھوکا دے،اور نہ خریدار قیمت کے عیوب چھپا کر تاجر کو دھوکا دے دونوں کے معاملات صاف ہوں تو برکت ہوگی ورنہ تجارت میں بے برکتی ہی رہے گی جیسا کہ آجکل دیکھا جارہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2802