Main Icon

باب: اختیار کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2804

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهٗ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهٗ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: البيعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا أن يكون صفقة خيار ولا يحل له أن يفارق صاحبه خشية أن يستقيله. رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تاجر و خریدار مختار ہیں جب تک کہ الگ نہ ہوں ۲؎مگر یہ کہ عقد ہی اختیار کا ہو ۳؎اور اسے یہ درست نہیں کہ فسخ تجارت کے ڈر سے اپنے ساتھی سے الگ ہوجائے ۴؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎پہلے کہا جاچکا ہے کہ عمرو کے دادا کا نام عبداللّٰه ابن عمرو ابن عاص ہے،آپ عمرو ابن شعیب ابن محمد ابن عبداللّٰه ابن عمرو ابن عاص ہیں،ان کی روایات مدخول ہوتی ہیں کہ اگرجدہٖمیں ضمیر عمرو کی طرف ہو تو ان کے دادا محمد ابن عمرو ہیں تابعی ہیں اور حدیث مرسل ہے اور اگرجدہٖکی ضمیرابیہکی طرف لوٹے تو یہابیہکے خلاف ہے،انتشار ضمائر ہے اور عمرو نے اپنے پر دادا کو پایا بھی نہیں ہے لہذا حدیث منقطع ہے اسی لیے مسلم،بخاری میں اسی اسناد سے ان کی روایات نہیں آتیں۔(اشعہ)
۲
؎اس جملہ کے معنے بھی عرض کردیئے گئے کہ ہماری علیحدگی سے مراد قوال کی علیحدگی ہے یعنی ایک کا کہنا کہ میں نے فروخت کردی دوسرے کا کہنا میں نے قبول کرلی اور شوافع کے ہاں تفرق ابدان مراد ہے یعنی تاجر و خریدار کا تجارت کی جگہ سے الگ ہٹ جانا،اس حدیث سے وہ خیار مجلس ثابت کرتے ہیں دلائل پہلے عرض ہوچکے۔
۳
؎کہ خیار والے عقد میں اس علیحدگی کے بعد بھی صاحب اختیار کے اختیار ہوگا،یہاں خیار سے مراد خیار شرط ہے جس کی مدت تین دن ہے کہ اس سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔
۴
؎یعنی متقی پرہیزگار مسلمان کو یہ مناسب نہیں کہ خریدتے ہی یا بیچتے ہی وہاں سے چلا جائے اس خوف سے کہ سامنے والا عیب پر مطلع ہو کر بیع فسخ نہ کر دے۔خلاصہ یہ ہے کہ خرید و فروخت کرنے کے بعد دونوں کچھ وہاں ٹھہریں تاکہ خریدار اچھی طرح دیکھ بھال لے اور تاجر پیسہ گن لے پرکھ لے جیسے ریلوے کے ٹکٹ گھروں پر لکھا ہوتا ہے کہ پیسہ گن کر حساب لگا کر کھڑکی چھوڑو،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ خیار مجلس معتبر نہیں اگرجگہ چھوڑنے سے پہلے بیع مکمل نہ ہوتی تو حضور اسے اقالہ کرنا نہ فرماتے۔اقالہ کے معنے ہیں بیع مکمل ہوچکنے کے بعد فسخ کرنا اگر ابھی مکمل ہی نہ ہوئی تو فسخ کیسا،اس سے شوافع خیار مجلس ثابت کرتے ہیں مگر ثابت ہوتا نہیں،یہ تو ان کے خلاف ہے سیدنا عبداللّٰه ابن عمر سے جو منقول ہے کہ آپ چیز خریدتے ہی وہاں سے ہٹ جاتے تھے تاکہ بائع بیع ختم نہ کردے،یہ انکا اپنا اجتہاد ہے اور صحابی کا اجتہاد نص کے مقابل لائق پیروی نہیں۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2804