Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4715

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهٖ حَتّٰى تَطْلَعَ الشَّمْسُ حَسَنَاءَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن جابر بن سمرة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا صلى الفجر تربع في مجلسه حتى تطلع الشمس حسناء. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی اسی جگہ میں چہار زانو بیٹھے رہتے حتی کہ سورج خوب چمک جاتا ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حسناءح اور سین کے فتح سے ہے بمعنی خوب اچھی طرح صاف و روشن یعنی حضور انورصلی الله علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھا کر مصلے شریف پر ہی چہار زانو بیٹھے رہتے جب آفتاب طلوع ہوکر بلند ہوجاتا تب اشراق وہاں ہی پڑھ کر اٹھتے سنت بھی یہ ہی ہے۔خیال رہے کہ آفتاب چمکنے کے بیس منٹ بعد نماز جائز ہوتی ہے اسی وقت سے نماز اشراق کا وقت شروع ہوتا ہے چہارم دن تک رہتا ہے،پھر چہارم دن سے وقت چاشت شروع ہوتا ہے جو نصف النہار تک رہتا ہے،نصف النہار پر نماز بلکہ سجدہ حرام ہوجاتا ہے،پھر زوال یعنی سورج ڈھلنے پر ظہر کا وقت ہوتا ہے،بعض نوافل کے لیے وقت مقرر ہیں ان میں سے نوافل اشراق بھی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4715