Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4719

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعِيْشَ بْنِ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ عَنْ أَبِيْهِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ - قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ مِنَ السَّحَرِ عَلٰى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِيْ بِرِجْلِهٖ فَقَالَ: هٰذِهٖ ضِجْعَةٌ يَبْغَضُهَا اللّٰهُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْن مَاجَه

وعن يعيش بن طخفة بن قيس الغفاري عن أبيه - وكان من أصحاب الصفة - قال: بينما أنا مضطجع من السحر على بطني إذا رجل يحركني برجله فقال: هذه ضجعة يبغضها الله فنظرت فإذا هو رسول الله صلى الله عليه وسلم. رواه أبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے یعیش ابن طخفہ ابن قیس غفاری سے ۱∞؎وہ اپنے والد سے راوی اور وہ صفہ والوں میں سے تھے ۲؎فرماتے ہیں اس حالت میں کہ میں درد کی وجہ سے اپنے پیٹ پر لیٹا ہوا تھا۳؎ناگاہ کوئی صاحب مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگے۴؎پھر فرمایا کہ اس لیٹنے سے الله ناراض ہے ۵؎میں نے دیکھا تو وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہیں ۶؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعیش بروزن یزید تابعی ہیں،ان کے والد طخفہ ط،خ،ف،ہ یا طہقہ صحابی ہیں،ان کے والد قیس ابن ابی غزرہ غفاری کوفی ہیں۔
۲
؎یعنی طخفہ صحابی ہیں اور صفہ والوں میں سے ہیں وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔
۳
؎سحرسین کے پیش ح کے سکون سے یا سین کے اور ح دونوں کے فتحہ سے حلق اور سینہ کا درمیانی حصہ یعنی سینہ کے اوپری حصہ میں میرے درد تھا اس لیے میں پیٹ کے بل اوندھا لیٹا ہوا تھا کہ سینہ دبا رہے اور درد کو سکون ہو۔
۴
؎بڑا خوش نصیب ہے وہ جسم جسے حضور صلی الله علیہ وسلم کی ٹھوکر لگ جاوے ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
مرمٹ کے خوب لگتی مٹی مری ٹھکانے گر انکی ٹھوکروں میں میرا مزار ہوتا
جس غلطی کی بنا پر حضور کی ٹھوکر نصیب ہوجاوے وہ غلطی بھی الله کی رحمت ہے۔
۵
؎چونکہ دوسری طرح لیٹنے سے بھی یہ تکلیف دفع ہوسکتی تھی اس لیے یہ درد اس کے لیے عذر نہ مانا گیا اور اس سے منع فرمادیا گیا لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ ضرورت کے وقت ممنوعات بھی درست ہوجاتے ہیں۔
۶
؎سبحان الله!آپ نے یہ عذر حضور سے عرض نہ کیا بلکہ فورًا کروٹ بدل لی یا اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4719