Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4708

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيْمٍ عَنْ عَمِّهٖ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا وَاضِعًا إِحْدٰى قَدَمَيْهِ عَلَى الْأُخْرٰى. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عباد بن تميم عن عمه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد مستلقيا واضعا إحدى قدميه على الأخرى. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عباد ابن تمیم سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ اپنا ایک قدم دوسرے پر رکھے ہوئے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عباد ابن تمیم ابن زید ابن عاصم تابعی ہیں،انصاری مازنی ہیں،ان کے چچا کا نام عبدالله ابن زید انصاری ہے وہ غزوہ حرہ میں ۶۳ھ؁∞ تریسٹھ میں شہید ہوئے۔
۲
؎قدم کا قدم پر رکھنا یہ ہے کہ دونوں پاؤں پورے پھیلے ہوئے ہیں اور قدم قدم پر رکھا ہو اس صورت میں ستر نہیں کھل سکتا۔پاؤں پرپاؤں رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاؤں کھڑا ہو اور دوسرا پاؤں کھڑے ہوئے گھٹنے پر رکھا ہو۔پہلی صورت جائز یہ دوسری صورت ممنوع لہذا احادیث میں تعارض نہیں پاؤں پر پاؤں رکھنے میں ستر کھل جانے کا اندیشہ ہے خصوصًا جب کہ تہبند بندھا ہوا ہو،آئندہ حدیث میں پاؤں پر پاؤں رکھنے سے ممانعت آرہی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں لیٹنا جائز ہے خصوصًا ضرورت کے وقت یا یہ بحالت اعتکاف۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4708