Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4718

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلٰى بَطْنِهٖ فَقَالَ: إِنَّ هٰذِهٖ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللّٰهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا مضطجعا على بطنه فقال: إن هذه ضجعة لا يحبها الله . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیٹ پر لیٹا دیکھا تو فرمایا کہ یہ وہ لیٹنا ہے جسے الله پسند نہیں فرماتا ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اوندھے لیٹنے کو الله تعالیٰ پسند نہیں کرتا بلکہ اس سے ناراض ہے کہ اس طرح سونے سے غفلت پیدا ہوتی ہے،اس سونے میں سینہ اور چہرہ جو اشرف اعضاء ہیں زمین پر رگڑتا ہے سر تو سجدہ ہی میں زمین پر رکھا جاوے نہ کسی اور کے سامنے نہ سوتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ سونا چار قسم کا ہے: پشت پر سونا یعنی چت یہ سونا اہل عبرت کا ہے،داہنی کروٹ پر سونا یہ اہل عبادت کا سونا ہے،بائیں کروٹ پر سونا یہ اہل استراحت کا سونا ہے،پیٹ کے بل سونا یہ سونا اہل غفلت کا ہے۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ اوندھے سونا دوزخیوں کا ہوگا اور لوطی لوگ ایسے سوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4718