Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4712

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلٰى وِسَادَةٍ عَلٰى يَسَارِهٖ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن جابر بن سمرة قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم متكئا على وسادة على يساره . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اپنی بائیں طرف تکیے پر ٹیک لگائے دیکھا ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ گاؤ تکیہ پر بائیں ہاتھ کی ٹیک لگاکر بیٹھنا سنت ہے بلکہ اگر سادہ تکیہ پر ٹیک لگائی جاوے تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔اس حدیث کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ حضور انور تکیہ پر سر مبارک رکھے بائیں کروٹ پر لیٹے تھے۔(مرقات واشعہ)حضورصلی الله علیہ وسلم کو تکیہ بہت پسند تھا فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تم کو تکیہ دے تو اسے رد نہ کرو۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4712